واشنگٹن: امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک ایسے ایرانی بینکر اور تاجر کو نشانہ بنایا ہے جسے امریکی حکام مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی اشرافیہ کا اہم مالی معاون قرار دیتے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں کا مرکز علی انصاری ہیں، جو دبئی میں مقیم ایرانی بینکر اور کاروباری شخصیت ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انصاری نے مجتبیٰ خامنہ ای، ایرانی حکومتی اشرافیہ اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مالی مفادات کے لیے وسیع بیرونِ ملک کاروباری اور جائیدادی نیٹ ورک قائم کیا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران پر آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر دوبارہ حملوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران کے مالیاتی نیٹ ورکس کو محدود کرنا اور عالمی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی کو مزید مشکل بنانا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) نے متعدد ایرانی ایکسچینج ہاؤسز، غیر ملکی فرنٹ کمپنیوں اور ان سے وابستہ افراد کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ادارے مبینہ طور پر منظور شدہ ایرانی بینکوں کی جانب سے سالانہ اربوں ڈالر کی منتقلی اور شیل کمپنیوں کے ذریعے مالی لین دین کو چھپانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایرانی اعلیٰ قیادت اور ان کے مالیاتی نیٹ ورکس کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ تھلگ کرنے کے لیے اپنے تمام قانونی اختیارات استعمال کرتا رہے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ علی انصاری ماضی میں امریکا کی جانب سے پابندیوں کا شکار آیندہ بینک کے مالک اور ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مختلف ممالک میں قائم شیل کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے لاکھوں ڈالر مالیت کے اثاثے جمع کیے، جن سے مبینہ طور پر ایرانی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کو مالی فائدہ پہنچایا گیا۔
پابندیوں کی نئی فہرست میں ہانگ کانگ میں قائم CDM Trading Limited اور متحدہ عرب امارات میں قائم Naba Alzaki Raw Materials Trading LLC سمیت متعدد کمپنیوں اور افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
