مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں احتجاجی رہنماؤں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو 15 جولائی کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔
احتجاجی رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ 14 جولائی تک مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا نیا اعلان بھی کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج بنیادی طور پر قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں میں سے 12 نشستیں مہاجرین کے لیے مخصوص رکھنے کے خلاف شروع ہوا تھا۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ان مخصوص نشستوں کے باعث پاکستان کی قومی سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر کی حکومت سازی پر اثرانداز ہوتی ہیں، اس لیے یہ نشستیں ختم کی جائیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کر دی تھی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق تنظیم پر ممکنہ تشدد، ہتھیاروں کے حصول، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کی منصوبہ بندی کے الزامات ہیں، تاہم تنظیم ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی تحریک کو پرامن قرار دیتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق راولاکوٹ میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں چار پولیس اہلکار اور تین مظاہرین شامل تھے۔ دوسری جانب احتجاجی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ میرپور واقعے میں بھی دو مظاہرین جاں بحق ہوئے، تاہم پولیس نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہزاروں مظاہرین اس وقت راولاکوٹ کے نواحی علاقے میں موجود ہیں اور مظفرآباد کی جانب ممکنہ لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں۔
دریں اثنا آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے، اس لیے انہیں انتظامی فیصلے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
