مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر تفصیلی بحث کے بعد فنانس بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس کے بعد حکومت کو نئے مالی سال کے ترقیاتی، انتظامی اور مالیاتی پروگرام پر عملدرآمد کا باضابطہ اختیار حاصل ہو گیا۔
اسمبلی اجلاس کے دوران وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے بجٹ پر ارکان کی تجاویز اور بحث سمیٹنے کے بعد فنانس بل ایوان میں پیش کیا، جسے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی مالی سال 2026-27 کے تخمینہ بجٹ اور مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ تخمینوں کی بھی توثیق کر دی گئی۔
بجٹ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے مختلف شعبوں کے لیے مختص فنڈز، ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اقدامات، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور دیگر ترجیحی شعبوں سے متعلق اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ بحث کے دوران حکومت کی مالیاتی حکمت عملی اور آئندہ مالی سال کی ترجیحات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
فنانس بل کی منظوری کے بعد آزاد کشمیر حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں شامل ترقیاتی منصوبوں، سرکاری اخراجات اور دیگر مالیاتی اقدامات پر باضابطہ عملدرآمد شروع کر سکے گی، جس سے مختلف شعبوں میں منصوبہ بندی کو عملی شکل دینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ منظور شدہ بجٹ عوامی فلاح، معاشی استحکام اور ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نئے مالی سال کے اہداف کے حصول اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے بجٹ پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، عوامی خدمات کے معیار میں بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
