برسلز: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی حملوں نے جنگ بندی سے متعلق جاری مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فائرنگ کے تبادلے نے پہلے سے نازک جنگ بندی مذاکرات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
کایا کالاس نے بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے ناقابل قبول ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی صورتحال پر مشاورت کے لیے آئندہ پیر کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اپنے خلیجی ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔
ان کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے، جنگ بندی کے ممکنہ نفاذ اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکی فوج نے منگل کے روز ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران کے لیے تیل فروخت کرنے والے خصوصی لائسنس کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔
تازہ کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری سفارتی ذرائع سے تنازع کے خاتمے کی کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہی ہے۔
