قم: ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار افراد کی نمازِ جنازہ ایران کے مقدس شہر قم میں ادا کر دی گئی، جہاں لاکھوں افراد نے آخری رسومات میں شرکت کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق نمازِ جنازہ شہر قم کے نواحی علاقے میں واقع معروف مسجد جمکران میں ادا کی گئی، جہاں ملک بھر سے بڑی تعداد میں سوگوار جمع ہوئے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مسجد جمکران اور اس کے اطراف میں سوگواروں کا غیرمعمولی اجتماع دیکھا جا سکتا ہے، جہاں شرکاء نے سابق رہبرِ اعلیٰ کو الوداع کہا اور ان کے لیے دعائیں کیں۔
رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو مزید مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے عراق منتقل کیا جائے گا، جہاں مقدس مقامات پر آخری حاضری کے بعد میت کو دوبارہ ایران لایا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس کے بعد جمعرات کے روز مشہد میں علی خامنہ ای کی تدفین عمل میں لائی جائے گی۔
علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں ایران کے مختلف شہروں میں کئی روز سے تعزیتی اجتماعات، دعائیہ تقریبات اور جنازے کی رسومات جاری ہیں، جن میں عوام کے علاوہ حکومتی شخصیات اور غیر ملکی وفود بھی شرکت کر رہے ہیں۔
