تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے حوالے سے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی صرف بیانات سے نہیں بلکہ دونوں فریقوں کی جانب سے طے شدہ ذمہ داریوں پر مکمل اور عملی عمل درآمد سے مشروط ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی معاہدے کی حقیقی اہمیت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب اس میں شامل تمام نکات پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدے کی شقوں پر مکمل عمل نہ ہوا تو مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوگا۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ معاہدے کے متن سے ہٹ کر دیے جانے والے بیانات اور غیر ضروری تبصرے مذاکراتی ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے بیانات فریقین کے درمیان موجود پیش رفت کو کمزور کر سکتے ہیں۔
اگرچہ صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں کسی شخصیت یا ملک کا نام نہیں لیا، تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کی طرف تھا، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
ایرانی حکام پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں طے شدہ نکات اور مفاہمت کی شرائط کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور کسی بھی اضافی شرط یا یکطرفہ بیان کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ایران-امریکا تکنیکی مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر کام کے لیے چار خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جا چکے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی نگرانی میں جاری رہے گا، جس میں ایران، امریکا، پاکستان اور قطر کے نمائندے شامل ہوں گے۔
ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کے خاتمے، اقتصادی بحالی، جوہری معاملات اور نگرانی کے نظام سے متعلق تمام وعدوں پر عمل درآمد ہی مستقبل کے کسی جامع معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
