گلگت بلتستان اسمبلی نے گلگت بلتستان کو عبوری طور پر پاکستان کا صوبہ بنانے کے حق میں متفقہ قرارداد منظور کر لی، جس میں وفاقی حکومت سے آئینی ترمیم کے ذریعے خطے کو عبوری صوبائی حیثیت دینے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی فراہم کرنے اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ڈپٹی اسپیکر ملک کفایت الرحمان کی زیر صدارت ہونے والے اسمبلی اجلاس میں یہ قرارداد رکن اسمبلی سید جلال شاہ نے پیش کی، جس پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے مشترکہ طور پر دستخط کیے تھے۔ ایوان نے قرارداد کو مکمل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین میں مناسب ترمیم کے ذریعے عبوری صوبائی حیثیت دی جائے تاکہ خطے کے عوام کو دیگر صوبوں کے مساوی آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق حاصل ہو سکیں، جبکہ انہیں پاکستان کی پارلیمنٹ میں مؤثر نمائندگی بھی فراہم کی جائے۔
اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دی جائے اور این ایف سی ایوارڈ میں دیگر صوبوں کی طرح خطے کا باقاعدہ حصہ مقرر کیا جائے تاکہ عوام قومی وسائل میں منصفانہ حصہ حاصل کر سکیں۔
قرارداد میں واضح کیا گیا کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا اقدام مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف یا اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے متصادم نہیں ہوگا۔ اس میں کہا گیا کہ یہ حیثیت مکمل انضمام کے بجائے ایک عبوری آئینی انتظام ہوگی، جو تنازعٔ کشمیر کے حتمی حل تک برقرار رہے گی۔
گلگت بلتستان تاریخی طور پر سابق ریاست جموں و کشمیر کا حصہ رہا ہے، جس کے باعث پاکستان نے اس خطے کو مستقل طور پر اپنے آئینی ڈھانچے میں شامل نہیں کیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔
قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس سلسلے میں ضروری آئینی، قانونی اور انتظامی اقدامات کا آغاز کرے تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو قومی دھارے میں مؤثر اور بااختیار نمائندگی حاصل ہو سکے۔

