کیف: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سرکاری توانائی کمپنی نفتوگاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سرگی کوریٹسکی کو ملک کا نیا وزیر اعظم نامزد کرنے کی توثیق کر دی ہے، جبکہ حکومتی ذرائع اور قانون سازوں کے مطابق وزیر دفاع کی تبدیلی بھی متوقع ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر زیلنسکی نے کیف میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے موسم سرما کی تیاری حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے سرگی کوریٹسکی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کو توانائی کے شعبے میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے ایسی قیادت درکار ہے جو سردیوں کے دوران ملک کی ضروریات کو مؤثر انداز میں سنبھال سکے۔
رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو کے استعفے کے بعد پوری کابینہ تحلیل ہو چکی ہے۔ یوکرینی پارلیمنٹ نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے اور توقع ہے کہ نئی وزارتِ عظمیٰ کی منظوری کے لیے جمعرات کو ووٹنگ ہوگی۔ چونکہ صدر زیلنسکی کی جماعت سرونٹ آف دی پیپل پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہے، اس لیے کوریٹسکی کی منظوری کا امکان مضبوط ہے۔
دوسری جانب حکومتی تبدیلیوں میں وزیر دفاع کے منصب پر بھی ردوبدل متوقع ہے۔ قانون سازوں کے مطابق موجودہ وزیر داخلہ ایگور کلیمینکو کو وزارت دفاع کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے، جبکہ موجودہ وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف کو عہدے سے ہٹائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
فیڈوروف کی ممکنہ برطرفی پر کئی قانون سازوں، دفاعی ماہرین اور رضاکاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیڈوروف نے دفاعی خریداری کے نظام میں اصلاحات، ڈرون پروگرام کو فروغ دینے اور فوجی استعداد بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کیے، جنہیں جاری رہنا چاہیے تھا۔
پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ اولیکسینڈر میریژکو نے کہا کہ فیڈوروف بین الاقوامی شراکت داروں میں انتہائی بااعتماد شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور وزارت دفاع میں اصلاحات کی امید ان سے وابستہ تھی۔
معروف ڈرون ٹیکنالوجی کی حامی اور رضاکار ماریا برلنسکا نے بھی اس فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ صدر زیلنسکی کی بڑی غلطیوں میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے اور اس کے اثرات یوکرین کی جنگی صلاحیت پر پڑ سکتے ہیں۔
اپنی جانب سے میخائیلو فیڈوروف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یوکرین کی خدمت کرنا ان کے لیے اعزاز رہا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع میں ان کی اولین ترجیحات میں ڈرون پروگرام میں سرمایہ کاری، دفاعی خریداری کے نظام میں شفافیت اور نیٹو معیار کے مطابق اصلاحات شامل تھیں، جن میں سے کئی اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں جبکہ بعض منصوبے ابھی مکمل ہونا باقی ہیں۔
یہ حکومتی تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب روس کے ساتھ جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور یوکرین کو فضائی دفاع، افرادی قوت اور عسکری وسائل سمیت کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

