ایران اور پاکستان نے امریکا کو جنگ بندی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک نظرِ ثانی شدہ تجویز ارسال کر دی ہے، جسے سفارتی حلقوں میں خطے کی کشیدہ صورتحال کے خاتمے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مذاکرات سے واقف دو پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ تہران اور اسلام آباد کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی اس تجویز میں جنگ کے خاتمے، کشیدگی کم کرنے اور خلیجی سمندری راستوں کو بحال کرنے کے لیے مختلف نکات شامل کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی ردعمل آئندہ 24 گھنٹوں میں متوقع ہے جبکہ مذاکراتی عمل میں شامل ایک پاکستانی اہلکار نے اس مجوزہ معاہدے کو “کافی جامع” قرار دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان گزشتہ دو ماہ سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کردار ادا کر رہا ہے اور حالیہ دنوں میں اعلیٰ سطحی رابطوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران کا اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مذاکراتی وفد کے سربراہ باقر قالیباف سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان ملاقاتوں میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور امریکا کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی حالیہ دنوں میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان بنیادی رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر امریکا نے اس نئی تجویز پر مثبت ردعمل دیا تو خطے میں جاری کشیدگی میں نمایاں کمی اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
