بھارت کی ریاست اتر پردیش میں حکام نے پانچ مساجد کو مسمار کر دیا، جس کے بعد ملک میں مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ مساجد مبینہ طور پر قانونی اجازت کے بغیر تعمیر کی گئی تھیں، اسی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
بھارتی حکام کے مطابق مساجد کو گرانے کا فیصلہ انتظامی اور قانونی ضابطوں کے مطابق کیا گیا اور متعلقہ کارروائیاں عدالتی و سرکاری قواعد کی روشنی میں انجام دی گئیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مہم بلاامتیاز جاری رہے گی۔
دوسری جانب ناقدین اور انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں اتر پردیش سمیت مختلف بھارتی ریاستوں میں مسلم مذہبی مقامات اور املاک کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے اقلیتی برادری میں تشویش کو جنم دیا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں اس سے قبل بھی متعدد مساجد اور دیگر مذہبی ڈھانچوں کو مختلف قانونی وجوہات کی بنیاد پر مسمار کیا جا چکا ہے۔ ان کارروائیوں پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی بار سوالات اٹھائے گئے، جبکہ بھارتی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
تازہ کارروائی کے بعد ایک بار پھر بھارت میں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے تحفظ اور سرکاری پالیسیوں پر نئی بحث شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
