Table of Contents
رپورٹ: سید فرزند علی
ویٹیکن سٹی: ویٹیکن نے ایک اہم مذہبی فیصلے میں روایتی نظریات رکھنے والے علیحدہ کیتھولک گروپ سوسائٹی آف سینٹ پیئس ایکس (SSPX) کے چار نئے بشپ، ان کی تقرری کرنے والے بشپ اور گروپ سے وابستہ متعدد پادریوں کو باضابطہ طور پر چرچ سے خارج (Excommunicate) کر دیا ہے۔

ویٹیکن کے نظریاتی شعبے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ مذکورہ گروپ نے پوپ لیو چہاردہم (Leo XIV) کی واضح ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے پوپ کی منظوری کے بغیر چار نئے بشپ مقرر کیے، جسے کیتھولک چرچ کے قوانین کے مطابق "فرقہ وارانہ اقدام” اور انتہائی سنگین مذہبی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق صرف نئے مقرر ہونے والے بشپ ہی نہیں بلکہ وہ بشپ بھی خارج کیے گئے جنہوں نے تقرری کی تقریب میں شرکت کی۔ مزید برآں، گروپ سے وابستہ وہ پادری اور ارکان جو اس علیحدہ تنظیم کے ساتھ باضابطہ وابستگی رکھتے ہیں، انہیں بھی چرچ کی مکمل رفاقت سے خارج تصور کیا جائے گا۔
ویٹیکن نے تمام کیتھولک پادریوں اور عام مومنین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس گروپ کی رسمی پیروی سے گریز کریں، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ بھی خودکار طور پر اخراج کی سزا کے مستحق ہو سکتے ہیں۔
پوپ لیو کی آخری وارننگ بھی نظر انداز
اس فیصلے سے چند روز قبل پوپ لیو چہاردہم نے سوسائٹی آف سینٹ پیئس ایکس سے اپیل کی تھی کہ وہ نئے بشپ مقرر کرنے کا منصوبہ ترک کر دے۔ پوپ نے خبردار کیا تھا کہ یہ اقدام چرچ کے اتحاد کو نقصان پہنچائے گا اور اس کے سنگین مذہبی نتائج برآمد ہوں گے، تاہم گروپ نے اپیل مسترد کرتے ہوئے تقرری کی تقریب منعقد کر دی۔
بعد ازاں ویٹیکن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کارڈینل پیٹرو پیرولین نے بھی اس اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے چرچ کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
چرچ میں واپسی کا راستہ بھی بتایا گیا
ویٹیکن نے ساتھ ہی ان شرائط کا بھی اعلان کیا جن کے تحت خارج کیے گئے پادری دوبارہ چرچ کی مکمل رفاقت حاصل کر سکتے ہیں۔ ان شرائط میں پوپ کو تحریری درخواست دینا، عقیدے کے سرکاری اقرار نامے پر دستخط کرنا، پوپ اور چرچ کی تعلیمات کو تسلیم کرنا اور مستقبل میں چرچ کے خلاف عوامی مہم نہ چلانے کا وعدہ شامل ہے۔
تنازع کی تاریخی بنیاد
سوسائٹی آف سینٹ پیئس ایکس 1970 میں فرانسیسی آرچ بشپ مارسل لیفبرے نے قائم کی تھی۔ یہ گروپ 1960 کی دہائی میں منعقد ہونے والی دوسری ویٹیکن کونسل (Second Vatican Council) کی متعدد اصلاحات، خصوصاً مقامی زبانوں میں عبادت، مذہبی آزادی، دیگر مذاہب کے ساتھ مکالمے اور جدید کلیسائی اصلاحات کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
1988 میں بھی اسی گروپ نے پوپ کی منظوری کے بغیر چار بشپ مقرر کیے تھے، جس کے بعد اس وقت بھی انہیں چرچ سے خارج کر دیا گیا تھا۔
اگرچہ بعد میں پوپ فرانسس نے بعض مذہبی خدمات، مثلاً اعترافِ گناہ (Confession) اور شادی کی مخصوص رسومات انجام دینے کی محدود اجازت دی تھی، تاہم تازہ فیصلے میں ویٹیکن نے واضح کیا ہے کہ اس گروپ کی جانب سے انجام دی جانے والی شادیوں اور اعتراف کی مذہبی حیثیت اب درست تصور نہیں کی جائے گی۔
امریکہ میں بھی فعال نیٹ ورک
سوسائٹی آف سینٹ پیئس ایکس کی امریکہ میں بھی نمایاں سرگرمیاں موجود ہیں۔ تنظیم کا امریکی مرکز ریاست مسوری جبکہ اس کا مذہبی مدرسہ ورجینیا میں قائم ہے، جہاں سے نئے مقرر کیے گئے بشپ مائیکل گولڈے وابستہ ہیں۔
ویٹیکن نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ چرچ کے دروازے ان تمام افراد کے لیے کھلے ہیں جو مکمل اتحاد کے ساتھ واپس آنا چاہتے ہیں، تاہم چرچ کے اتحاد اور پوپ کی اتھارٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
