Table of Contents
تجزیہ: سید فرزند علی (لاہور)
روایتی اور جدید نظریات کی جنگ اب مسیحیت کے سب سے بڑے مرکز، ویٹیکن سٹی کے دروازوں تک پہنچ چکی ہے۔ پوپ لیو چودہویں (Pope Leo XIV) کی قیادت کو اس وقت اپنے دورِ صدارت کے پہلے اور سنگین ترین بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے، جب ایک باغی روایتی کیتھولک گروپ نے پوپ کی مرضی اور ویٹیکن کے قوانین کے خلاف جا کر چار نئے اسقف (Bishops) مقرر کر دیے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے علاقے ایکون (Écône) میں ہونے والی اس تقریب نے رومن کیتھولک چرچ کے اندر ایک ایسے نظریاتی اور انتظامی زلزلے کو جنم دیا ہے جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ویٹیکن نے اس اقدام کو مسیحیت کی تاریخ میں ایک بڑے "انشقاق” یا پھوٹ (Schism) سے تعبیر کیا ہے، جس کے بعد پادریوں کی خود بخود چرچ سے بے دخلی (Excommunication) عمل میں آچکی ہے۔

تنازع کی جڑ: ’سوسائٹی آف سینٹ پائیس‘ (SSPX) کیا ہے؟
اس پورے بحران کے پیچھے "سوسائٹی آف سینٹ پائیس ٹینتھ” (Society of Saint Pius X) نامی ایک گروپ ہے، جسے مختصر طور پر SSPX کہا جاتا ہے۔ اس گروپ کی بنیاد 1970 میں ایک فرانسیسی آرچ بشپ مارسيل لیفبرے (Marcel Lefebvre) نے رکھی تھی۔ یہ گروپ رومن کیتھولک چرچ کے ان تمام اصلاحاتی فیصلوں کو یکسر مسترد کرتا ہے جو 1960 کی دہائی میں مشہورِ زمانہ "سیکنڈ ویٹیکن کونسل” (Second Vatican Council) میں لیے گئے تھے۔
ان اصلاحات میں مذہبی آزادی، دوسرے مسیح فرقوں اور مذاہب کے ساتھ رواداری (Ecumenism) اور عبادت کے طریقوں میں تبدیلیاں شامل تھیں۔ سب سے بڑھ کر، ویٹیکن کونسل نے اینٹی سیمی ٹزم (یہود دشمنی) کی ہر شکل کی مذمت کی تھی، جسے یہ کٹر روایتی گروپ دل سے تسلیم نہیں کرتا۔ ایس ایس پی ایکس کا ماننا ہے کہ کیتھولک چرچ جدید اور لبرل نظریات کی وجہ سے "اضطراری حالت” (State of Emergency) میں ہے، اور وہ اپنے تئیں حقیقی مسیحیت اور روحوں کو بچانے کے لیے یہ تمام اقدامات کر رہے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں کیا ہوا؟ پوپ کی آخری وارننگ ناکام
بدھ کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ایکون میں ایک بہت بڑا سفید شامیانہ نصب کیا گیا جہاں تقریباً 15 ہزار عقیدت مند جمع ہوئے۔ یہ تقریب سوسائٹی کی ویب سائٹ پر چھ مختلف زبانوں میں لائیو اسٹریم کی گئی۔ اس تقریب میں پوپ کی واضح مخالفت کے باوجود چار نئے بشپس کی تاج پوشی کی گئی، جن میں امریکی ریاست ورجینیا کے سیمینری کے سربراہ فادر مائیکل گولڈیڈ بھی شامل ہیں۔

یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب پیر کے روز پوپ لیو نے ذاتی طور پر اس گروپ سے الیونتھ آور (آخری لمحات) میں اپیل کی تھی کہ وہ اس فیصلے سے باز رہیں۔ پوپ نے سخت الفاظ میں وارننگ دی تھی کہ بغیر اجازت بشپس کی تقرری چرچ کے قوانین کے تحت "انتہائی سنگین گناہ” اور ایک باغیانہ عمل شمار ہوگا۔ لیکن گروپ نے پوپ کی اس التجا کو پسِ پشت ڈال دیا۔
ویٹیکن کا ردعمل اور خود بخود اخراج (Excommunication)
کیتھولک چرچ کے قانون کے مطابق، پوپ کی منظوری کے بغیر بشپ بننے والے افراد اور وہ تمام سینئر بشپس جو اس رسم کو ادا کرنے میں شامل ہوں، قانوناً خود بخود ‘ایک کمیونیکیٹ’ (Excommunicated) یعنی چرچ کی برادری اور اس کی مقدس رسومات (Sacraments) سے لاجواب اور خارج ہو جاتے ہیں۔
ویٹیکن کے وزیر خارجہ، کارڈینل پیٹرو پارولین نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا "اس اقدام نے چرچ کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے اور مخصوص پابندیوں کو دعوت دی ہے، جن میں بنیادی طور پر چرچ سے بائیکاٹ شامل ہے۔ تاہم، میری امید ہے کہ اس سب کے باوجود مکالمے کا راستہ دوبارہ کھل سکے گا۔”
دوسری طرف، شیکاگو کے کارڈینل بلیز یوپچ، جو پوپ لیو کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے خبردار کیا کہ اس کا سب سے بڑا خطرہ چرچ کے اندر ایک متوازی ڈھانچہ (Parallel Structure) قائم ہونا ہے، جو عیسائی دنیا کے مرکز کو کمزور کر سکتا ہے۔
ماضی کی تاریخ اور ہولوکاسٹ کا متنازع پہلو
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس گروپ نے ویٹیکن کے اعصاب کا امتحان لیا ہو۔ اس سے قبل 1988 میں بھی آرچ بشپ لیفبرے نے پوپ جان پال دوم کی مرضی کے خلاف چار بشپ مقرر کیے تھے، جس پر انہیں چرچ سے نکال دیا گیا تھا۔ بعد ازاں، 2009 میں پوپ بینیڈکٹ۔16 نے چرچ کو متحد کرنے کی کوشش میں ان کی سزا ختم کی تھی، لیکن یہ کوشش اس وقت شدید تنازع کا شکار ہو گئی جب معلوم ہوا کہ ان چار بشپس میں سے ایک، رچرڈ ولیمسن، سرعام نازیوں کی طرف سے یہودیوں کے قتلِ عام (Holocaust) اور گیس چیمبرز کے وجود کا انکار کرتا رہا ہے۔ جرمن عدالت نے ولیمسن پر مقدمہ چلایا اور سزا دی، جس کے بعد خود ایس ایس پی ایکس نے اسے اپنے گروپ سے نکال دیا۔

موجودہ بحران کے دوران بھی اس گروپ کی کمرشل ازم سامنے آئی ہے، جہاں ان چار روزہ تقریبات کے حوالے سے ایک ویب سائٹ بنائی گئی، اور 75 سوئس فرانک (Swiss Franc) مالیت کا ایک یادگاری باکس بھی فروخت کے لیے پیش کیا گیا جس میں شراب کی چار بوتلیں موجود تھیں۔
عالمی اثرات: 1.4 ارب کیتھولک اور تقسیم کا خوف
دنیا بھر میں رومن کیتھولک چرچ کے ماننے والوں کی تعداد تقریباً 1.4 ارب ہے اور پادریوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں باغی گروپ (SSPX) کے پاس صرف 700 پادری اور 6 لاکھ کے قریب پیروکار ہیں۔ بظاہر یہ تعداد بہت چھوٹی نظر آتی ہے، لیکن پوپ لیو اس خطرے کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ مسیحیت میں پوپ اور بشپس کا باہمی رابطہ ہی چرچ کی طاقت اور اتحاد کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر دنیا کے مختلف حصوں (جیسے امریکہ اور یورپ) میں لوگ ویٹیکن کے بجائے ایک متوازی مذہبی قیادت کو تسلیم کرنے لگیں، تو یہ چرچ کے عالمی اثر و رسوخ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
پوپ لیو، جنہوں نے اپنے انتخاب کے بعد سے ہمیشہ چرچ کے اتحاد اور مکالمے کو فروغ دیا ہے، اب ایک کٹھن موڑ پر کھڑے ہیں۔ جون کے وسط میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن اپنی حدود سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا تھا: "اگر وہ اس راستے کا انتخاب کرتے ہیں، تو مجھے افسوس ہے، لیکن ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔” اب جبکہ باغی گروپ نے لکیر عبور کر لی ہے، یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ویٹیکن لبرل ازم اور روایت پسندی کی اس جنگ کو روکنے کے لیے اگلے کیا قانونی اور مذہبی اقدامات اٹھاتا ہے۔
