تحریر: محمد عبداللہ
تقسیمِ ہند برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا المناک باب ہے جس کے زخم آج بھی لاکھوں خاندانوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔ 1947ء میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں، خصوصاً جموں، کٹھوعہ، سامبا، پونچھ اور دیگر خطوں میں مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھائے گئے۔ ہزاروں افراد شہید ہوئے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور بے شمار خاندانوں کو اپنی زمینیں، جائیدادیں، مویشی، کاروبار اور آبائی گھر چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔
میرے اجداد بھی انہی لاکھوں متاثرین میں شامل تھے جن کا تعلق ضلع کٹھوعہ کی تحصیل ہیرانگر سے تھا۔ ان کے پاس زمینیں تھیں، مویشی تھے، گھر تھے اور ایک آباد زندگی تھی، مگر حالات نے انہیں سب کچھ چھوڑ کر صرف اپنی جانیں بچانے پر مجبور کر دیا۔ وہ اس یقین کے ساتھ پاکستان آئے تھے کہ حالات معمول پر آئیں گے اور وہ ایک دن اپنی آبائی وطن واپس لوٹ جائیں گے۔ لیکن تاریخ نے ایک مختلف رخ اختیار کیا اور وہ واپسی کا خواب آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ لوگ "جموں و کشمیر کے مہاجرین” کہلائے۔ ریاستِ جموں و کشمیر کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے میں ان کی ایک الگ شناخت تسلیم کی گئی۔ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ان کے لیے مخصوص نشستیں رکھی گئیں، سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں کوٹے مختص کیے گئے۔ یہ سب اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ یہ لوگ اپنے آبائی وطن سے بے دخل کیے گئے کشمیری ہیں، جن کا حقِ نمائندگی اور شناخت برقرار رہنا چاہیے۔
افسوس کہ آج بعض حلقوں میں اس تاریخی حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے بیانیے سامنے آ رہے ہیں جن کے مطابق پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر اب کشمیری نہیں رہے بلکہ صرف پاکستانی شہری ہیں۔ بلاشبہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہماری ریاست ہے، لیکن کیا پاکستانی شہری ہونا ہماری کشمیری شناخت کو ختم کر دیتا ہے؟ کیا ہجرت کر جانے سے انسان اپنے آبائی وطن، اپنی تاریخ اور اپنی نسلوں کے ورثے سے محروم ہو جاتا ہے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیری شناخت محض موجودہ رہائش گاہ سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق تاریخ، نسل، تہذیب اور آبائی سرزمین سے بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی خاندان جموں، سری نگر، بارہمولہ، راجوری یا کٹھوعہ سے تعلق رکھتا تھا اور حالات کے جبر کے تحت وہاں سے ہجرت پر مجبور ہوا تو اس کی کشمیری شناخت ختم نہیں ہو جاتی۔ بلکہ اس کا یہ حق مزید مضبوط ہو جاتا ہے کیونکہ اس نے اس شناخت کی قیمت اپنی قربانیوں سے ادا کی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے ہمارے بھائی بہن بھی کشمیری ہیں اور ان کی کشمیری شناخت مسلمہ ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کشمیری نہیں رہے، تاریخ اور حقائق دونوں کے منافی ہے۔ کشمیریت کسی ایک جغرافیائی حصے کی جاگیر نہیں بلکہ پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کا مشترکہ ورثہ ہے۔
بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں بعض احتجاجی تحریکوں اور مظاہروں کے دوران ایسے نعرے اور بیانات بھی سامنے آئے ہیں جو ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف مسئلے کے حل میں رکاوٹ ہے بلکہ ان قربانیوں کی روح کے بھی خلاف ہے جو کشمیری عوام اور پاکستان نے دہائیوں سے دی ہیں۔
پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر کی ایک بڑی تعداد کا موقف واضح ہے۔ ہم اپنے حقوق، شناخت اور آئینی حیثیت کے تحفظ کے خواہاں ہیں، لیکن پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسائل کا حل تصادم، نفرت اور انتشار میں نہیں بلکہ مکالمے، آئینی جدوجہد اور قومی یکجہتی میں ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کشمیری کون ہے اور کون نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم تاریخ کے ان لاکھوں متاثرین کی قربانیوں کو فراموش کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا مگر اپنی شناخت نہیں چھوڑی؟
اگر کشمیری ہونے کا معیار آبائی تعلق، تاریخی وابستگی اور قربانی ہے تو پھر وہ مہاجرین جو جموں و کشمیر سے اپنا سب کچھ لٹا کر آئے، یقیناً کشمیری ہیں۔ ان کی اولادیں بھی اسی تاریخ اور ورثے کی امین ہیں۔ ان کی شناخت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کی قربانیوں کو تاریخ کے صفحات سے مٹایا جا سکتا ہے۔
اصل کشمیری وہی ہے جو کشمیر کو اپنی شناخت، اپنی تاریخ اور اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین سمجھتا ہے؛ خواہ وہ آج مظفرآباد میں رہتا ہو، میرپور میں، لاہور میں، شکرگڑھ میں ،راولپنڈی میں یا دنیا کے کسی اور کونے میں۔کیونکہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا، وہ نسلوں کی یاد، قربانی اور تاریخ کا نام بھی ہوتا ہے۔