رپورٹ: سید فرزند علی
لاہور: روس کے قومی دن کی مناسبت سے لاہور کے الحمرا کلچرل کملیکس میں ایک رنگا رنگ روسی ثقافتی شام کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان اور روس کے درمیان ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانا اور عوامی سطح پر باہمی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔

تقریب کے دوران بین الاقوامی شہرت یافتہ روسی فنکاروں نے روایتی روسی لوک موسیقی اور ثقافتی رقص پیش کیے، جنہیں حاضرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فنکاروں نے بھی علاقائی لوک رقص اور کلاسیکی کتھک کی پرفارمنس پیش کرکے تقریب کو مزید دلکش بنا دیا۔
یہ تقریب روسی تعلیمی سینٹرلاہور اور پاکستان میں موجود روسی سفارتخانے کے تعاون سے منعقد کی گئی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، سفارتی نمائندوں، دانشوروں، طلبہ اور ثقافتی حلقوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر مہمانِ خصوصی Gleb Shubin تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان ثقافتی تعاون دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثقافتی تبادلے نہ صرف عوامی روابط کو فروغ دیتے ہیں بلکہ کاروباری اور تعلیمی شعبوں میں بھی نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
تقریب سے ڈاکٹرشاہد حسین نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور ثقافتی تعلقات دونوں ممالک کے لیے مثبت امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے پروگرام باہمی اعتماد، دوستی اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
لاہور میں روسی فیڈریشن کے اعزازی قونصلیٹ کے سی ای او ڈاکٹراشرف نظامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور روس دونوں اپنے ثقافتی ورثے پر فخر کرتے ہیں اور یہی مشترکہ اقدار دونوں اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر روسی ثقافتی طائفے نے روایتی روسی لوک فنون کا شاندار مظاہرہ کیا، جبکہ معروف پاکستانی کتھک رقاص Asfandyar Khattak نے اپنی منفرد فنکارانہ صلاحیتوں سے حاضرین کو متاثر کیا۔
شرکاء نے اس تقریب کو پاکستان اور روس کے درمیان دوستی، ثقافتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی ایک خوبصورت مثال قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی ثقافتی سرگرمیاں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
