ادارتی نوٹ: ذیل میں شائع کیا جانے والا خصوصی کالم نیوز ویب سائٹ "سفارتی ترجمان” کو لاہور میں تعينات ایرانی قونصل جنرل آقائے مہران موحدفر کی جانب سے موصول ہوا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال، امریکی پالیسیوں، پاکستان کی سفارتی کوششوں اور پاک-ایران تعلقات کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کا باضابطہ موقف پیش کیا ہے۔
تحریر: مہران موحدفر (قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران، لاہور)
1۔ آج دنیا کو بے لگام یکطرفہ پن کے پھیلاؤ، اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصول کی کمزوری، طاقت کے غیر قانونی استعمال، یکطرفہ اور بلاجواز پابندیوں کے نفاذ اور معاشی و مالیاتی میکانزم کا سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال جیسے تاریخی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی نظام کے ممبرز بالخصوص حکومتوں کے لیے اس نظام کے حقیقی کرداروں کی حیثیت سے ضروری ہے کہ کثیر الجہتی، قومی خودمختاری کے احترام، حکومتوں کی برابری اور بین الاقوامی تعلقات میں قانون کی حکمرانی کے اصولوں کا دفاع کریں۔
2۔ ایرانی قوم نے جون 2025 سے اب تک اپنے سب سے تلخ اور کڑوے دنوں کا تجربہ کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے بڑے سیاسی اور مذہبی عہدیدار کے طور پر رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی کی شہادت، میناب اسکول پر گھناؤنا حملہ اور 168 طالب علم بچوں کی شہادت، امریکہ کی طرف سے صوبہ فارس کے شہر لامرد پر جدید ترین مہلک ہتھیاروں اور کلسٹر میزائلوں کا تجربہ اور اس شہر کے بے گناہ لوگوں کا اندھا قتل، علاج و صحت کے مراکز اور علمی مقامات و یونیورسٹیوں پر حملہ اور ان جرائم کا تسلسل اس بات کی نشانی ہے کہ جب ایک سپر پاور سرکش ہو جاتی ہے تو بین الاقوامی امن و امان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
3۔ امریکی حکومت نے جنگ مسلط کرکے، ایران کے ساتھ کئی دور پر مشتمل مذاکرات کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ پاکستان کی خطے میں امن و امان واپس لانے کے لیے ثالثی کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں اور ایران اس اہم کردار کا احترام کرتا ہے۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ ہمیشہ ایک فریق جنگوں کا آغاز کرتا ہے مگر ان کے اختتام کے لیے دو فریقوں کا کردار اور موجودگی ضروری ہے۔ امریکیوں نے جنگ مسلط کی اور اگر وہ اس کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ پاکستانی مفاہمت کی یادداشت کا احترام کریں اور انہیں اپنے لکھے ہوئے قواعد کے ذریعے ایران پر امن مسلط کرنے کے درپے نہیں ہونا چاہیے۔ مگر ظاہری طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ چاہے جنگ چاہے امن کے ذریعے ہو، ایران پر اپنی خواہشات مسلط کرنے کے درپے ہے۔ ایک میان میں دو تلواریں نہیں ہو سکتیں۔ امریکی ساری چیزیں ایک ساتھ چاہتے ہیں اور سامنے والے فریق کے لیے کسی مقام و مرتبے کے قائل نہیں ہیں۔ پاکستانی مفاہمت کی یادداشت کی شرائط کی واضح خلاف ورزی، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے، پینے والے پانی کی تنصیبات، ماہی گیری کی کشتیوں، مقامی تجارتی جہازوں، موسمیات کے مراکز اور دوسری سویلین تنصیبات پر حملوں کا جاری رہنا، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کھلے مصداق اور منہ زوری کی پالیسی اور بین الاقوامی وعدوں سے بے اعتنائی کی پالیسی کے تسلسل کی واضح مثالیں ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے اپنے پختہ عزم پر زور دیتا ہے۔
4۔ امریکی حکومت ایک ناقابلِ اعتماد اور قانون مخالف حکومت ہے اور بین الاقوامی قوانین، ضوابط اور معاہدوں کی پابند نہیں ہے اور اسی وجہ سے سیاسی امور کے بہت سے تجزیہ نگار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کے استحکام کے لیے مغربی ایشیاء کے علاقائی مسائل پر امریکہ کا رویہ خطرناک ہے۔ جیسا کہ مسٹر ٹرمپ نے گزشتہ سال سے امریکہ کی فتح اور ایران کی عسکری فورسز کی شکست پر مبنی خیال پیش کیا ہے وہ صرف ایک اسٹریٹجک سراب ہے اور مسٹر ٹرمپ کی خود کو تباہ کرنے والی پالیسیوں کا جاری رہنا، امریکہ کو ایک گہری دلدل میں داخل کرے گا اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں ایران کی تاریخ اور قوم کی درست پہچان اور سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ امریکہ کی آبنائے ہرمز کے سیکیورٹی اور بحری انتظامات کے نفاذ کے عمل میں براہِ راست مداخلت اور دوبارہ بحری ناکہ بندی نے ایک دفعہ پھر دنیا کی سب سے اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور بین الاقوامی تجارتی شپنگ کی معمول کے بہاؤ میں خلل کا سبب بنا ہے۔
5۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی ہمیشہ بات چیت، سفارت کاری، اچھی ہمسایگی اور علاقائی تعاون پر مبنی رہی ہے۔ ہمارا اب بھی یہ ماننا ہے کہ پائیدار امن اس وقت قابلِ حصول ہوگا جب جارحیت، قبضہ، دھمکی اور دوغلے معیارات کی جگہ باہمی احترام، بین الاقوامی قانون پر غیر جانبدارانہ عمل درآمد اور بین الاقوامی وعدوں کی حقیقی پابندی لیں گے۔
6۔ اگرچہ یادداشتِ اسلام آباد پر دونوں ملکوں ایران اور امریکہ کے صدور کی طرف سے دستخط ہوئے تھے مگر علاقائی اور ہمسایہ ممالک خاص طور پر خلیج فارس کے جنوبی علاقے کے عرب ممالک کے لیے امریکی حکومت کے "مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں” کے طور پر اس یادداشت کی شق نمبر ایک اور دو کی بنیاد پر ضروری ہے کہ وہ جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے اور امن کو قائم کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے تعاون کریں۔ یہ ممالک مت بھولیں کہ ان کی سرزمین اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہوئی ہے اور یہ جارحیت ابھی تک جاری ہے۔ یہ کہ ان ممالک کی سرزمین امریکہ کے اختیار میں دی گئی یا یہ کہ امریکہ نے ان ممالک کی اجازت کے بغیر ان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کیا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ آخر کار ان کی صلاحیتوں اور سہولیات میں سے ہمارے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ ممالک ایران کے خلاف جنگی محاذ کا ایک حصہ ہیں اور ضروری ہے کہ وہ بھی پاکستانی یادداشت کے ساتھ وفادار رہیں۔
7۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر نے صراحتاً خلیج تعاون کونسل کے چند ملکوں اور اردن کی ایران کے خلاف ریاستہائے متحدہ امریکہ کی عسکری جارحیت میں شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہ دعویٰ محض ایک جھوٹ ہے تو ضروری ہے کہ یہ ممالک رسمی اور شفاف انداز میں اسے رد کریں۔ خطے میں عدم تحفظ اور بھڑکتی آگ کی صورتحال، ایران کے خلاف مسلسل جارحیت کی خصوصی پروڈکٹ ہے اور افسوس کے ساتھ کچھ ممالک کی سرزمین عدم استحکام پیدا کرنے والے ان اقدامات کی خدمت میں حاضر ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اپنے دفاع کے لیے جائز دفاع کا حق رکھتا ہے۔
8۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمسایہ ممالک یہ مشترکہ سمجھ بوجھ رکھیں گے کہ جو اقدامات ایران کر رہا ہے وہ خطے کے ممالک کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے نہیں ہیں۔ ہم سب یہ مانتے ہیں کہ ہم ہمسائے ہیں اور ہمسائے ہی رہیں گے۔ ایران نے بارہا "مضبوط خطے” کی منطق پر زور دیا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ سارے خطے کو ایک طاقتور خطے میں تبدیل ہونا چاہیے؛ وہ خطہ جو کہ اپنے مسائل اور مشکلات بیرونی فورسز کی احتیاج کے بغیر حل کر سکے جو کہ خود عدم استحکام اور عدم تحفظ کی وجہ ہیں۔ یہ خطہ، ایک مشترکہ خطہ ہے اور اس کی سیکیورٹی سب ممالک سے تعلق رکھتی ہے اور سب کو چاہیے اس کے امن و سلامتی اور خوشحالی کو وجود میں لانے اور برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

