نیویارک، اقوام متحدہ کے اگلے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا باقاعدہ عمل شروع ہو گیا ہے، جس کے تحت سلامتی کونسل نے امیدواروں کی حمایت کا ابتدائی جائزہ لینے کے لیے پہلا غیر رسمی "اسٹرا پول” منعقد کیا۔
موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس اپنی دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر 2026 کو مکمل کر رہے ہیں، جس کے بعد نئے سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔
اس وقت اس اہم عالمی عہدے کے لیے سات امیدوار میدان میں ہیں، جن میں چار خواتین اور تین مرد شامل ہیں۔ اگر کسی خاتون امیدوار کا انتخاب ہوتا ہے تو وہ اقوام متحدہ کی تاریخ کی پہلی خاتون سیکرٹری جنرل ہوں گی۔
امیدواروں میں چلی کی سابق صدر مشیل بیچلیٹ، ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ ماریا فرنینڈا ایسپینوسا، ارجنٹائن سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی، کوسٹا ریکا کی ریبیکا گرینسپین، یوگنڈا کے اولارا اوٹنو، گیانا کی کیرولین روڈریگس برکیٹ اور سینیگال کے سابق صدر میکی سال شامل ہیں۔
اگرچہ رافیل گروسی کو عالمی سطح پر زیادہ شناخت حاصل ہے، تاہم سفارتی حلقوں کے مطابق اس وقت کوئی بھی امیدوار واضح طور پر سبقت حاصل کرتا دکھائی نہیں دیتا، اور انتخابی عمل کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔
انتخابی عمل میں سلامتی کونسل کے 15 ارکان امیدواروں کے حق میں یا مخالفت میں غیر رسمی رائے دیتے ہیں۔ کسی امیدوار کو آگے بڑھنے کے لیے کم از کم 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، تاہم اسے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ میں سے کسی کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔
سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد منتخب امیدوار کا نام منظوری کے لیے 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں رسمی منظوری کے بعد وہ اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالیں گے۔

