Table of Contents
سعودی عرب، پاکستان سمیت 8 ممالک نے اسرائیل کے مؤقف کی مذمت کی ہے۔
ان ممالک نے غزہ کے لیے امریکی منصوبے پر اسرائیلی مؤقف کو مسترد کر دیا۔
مشترکہ بیان میں اسرائیل کے فلسطینی ریاست کو مسترد کرنے پر بھی تنقید کی گئی۔
8 ممالک نے مشترکہ مؤقف اپنایا
سعودی عرب، مصر اور اردن اس مشترکہ بیان میں شامل ہیں۔
پاکستان، انڈونیشیا اور ترکیہ نے بھی بیان کی حمایت کی۔
قطر اور متحدہ عرب امارات بھی اس مشترکہ مؤقف کا حصہ ہیں۔
ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنا مؤقف جاری کیا۔
ٹرمپ کے منصوبے کا ذکر
وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے کا حوالہ دیا۔
انہوں نے منصوبے کے نفاذ کے لیے روڈ میپ کی اہمیت پر زور دیا۔
ان کے مطابق اسرائیل نے اس روڈ میپ کو مسترد کر دیا ہے۔
آٹھ ممالک نے اسرائیل کے اس مؤقف کی مذمت کی۔
سلامتی کونسل کی قرارداد کا حوالہ
مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کا بھی ذکر کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے قرارداد کی توثیق کی طرف توجہ دلائی۔
ان کے مطابق اسرائیلی مؤقف اس عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ کوششوں پر زور دیا۔
فلسطینی ریاست کے قیام پر زور
آٹھ ممالک نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ریاست کو مسترد کرنے پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کو امن کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا۔
ان کے مطابق فلسطینی ریاست کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
امن کی کوششوں کو نقصان کا خدشہ
مشترکہ بیان میں اسرائیلی مؤقف پر تشویش ظاہر کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ اس سے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مؤقف سے جامع منصوبے پر عمل درآمد متاثر ہوگا۔
ان کے مطابق خطے میں منصفانہ امن کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔
اسرائیل پر امن کی راہ میں رکاوٹ کا الزام
آٹھ ممالک نے اسرائیل پر امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔
ان کے مطابق یہ صورتحال غزہ تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے باقی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا بھی ذکر کیا۔
مشترکہ بیان میں خطے میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجتماعی کوششیں جاری رکھنے پر زور
وزرائے خارجہ نے امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
ان ممالک کے مطابق منصفانہ امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے غزہ کے مستقبل کے لیے جامع حل کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
