Table of Contents
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر جنوبی کوریا کے تعاون سے انکار پر ناراضی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں نمایاں طور پر کم کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان سالانہ الچی فریڈم شیلڈ فوجی مشقوں کے آغاز سے چند گھنٹے قبل کیا۔ یہ مشقیں 17 سے 27 اگست تک جاری رہنے والی ہیں۔
ایران کے معاملے پر جنوبی کوریا سے ناراضی
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوشش میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھا تھا۔
امریکی صدر کے مطابق جنوبی کوریا نے اس پیشکش کا جواب ان الفاظ میں دیا کہ ’’نہیں، شکریہ‘‘۔
ٹرمپ نے اسی معاملے کو جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں میں کمی کی وجوہات میں شامل کیا۔ تاہم انہوں نے مشقوں کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کے لیے بہت دیر ہو جانے کی بات بھی کہی۔
ٹرمپ نے فوجی مشقوں کو مہنگا قرار دیا
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ان مشقوں سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے مطابق یہ مشقیں امریکا کے لیے مہنگی ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مشقیں شمالی کوریا کو نامناسب اور جارحانہ پیغام دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو اپنی موجودہ صدارت کے دوران امریکا کے لیے خطرہ بھی نہیں قرار دیا۔
الچی فریڈم شیلڈ مشقیں آج سے شروع
امریکا اور جنوبی کوریا کی سالانہ Ulchi Freedom Shield مشقیں 17 اگست سے شروع ہو رہی ہیں۔
مشقوں میں تقریباً 18 ہزار جنوبی کوریائی فوجیوں کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا مقصد شمالی کوریا سے ممکنہ خطرات کے مقابلے میں دونوں ممالک کی مشترکہ دفاعی تیاری بہتر بنانا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق مشترکہ مشقوں میں ڈرونز، سائبر حملوں اور جی پی ایس میں خلل جیسے جدید جنگی خطرات سے نمٹنے کی تیاری بھی شامل ہے۔
شمالی کوریا ہمیشہ مشقوں کی مخالفت کرتا رہا ہے
پیانگ یانگ امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو طویل عرصے سے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
شمالی کوریا ان مشقوں کو ممکنہ حملے کی تیاری سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس واشنگٹن اور سیول انہیں دفاعی تیاری کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ کی تازہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شمالی کوریا نے حالیہ عرصے میں بیلسٹک میزائل تجربات بھی کیے ہیں۔ اس صورتحال نے جزیرہ نما کوریا میں سیکیورٹی خدشات کو برقرار رکھا ہے۔
امریکا اور جنوبی کوریا کے تعلقات پر اثرات
ٹرمپ کا اعلان واشنگٹن اور سیول کے دفاعی تعلقات کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
دونوں ممالک طویل عرصے سے مشترکہ فوجی مشقیں کرتے آئے ہیں۔ ان مشقوں کو شمالی کوریا کے خلاف مشترکہ دفاعی تیاری کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
تازہ فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فوجی حکمت عملی میں اہمیت دے رہے ہیں۔
