Table of Contents
رباط: مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم مقرر کردیا۔ شاہی محل کے مطابق انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
فاطمہ الزہرا المنصوری کی نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری
فاطمہ الزہرا المنصوری مراکش کے شہر مراکش کی میئر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ وزارت قومی منصوبہ بندی، شہری منصوبہ بندی، ہاؤسنگ اور شہری پالیسی کی وزیر بھی تھیں۔
شاہ محمد ششم نے شاہی محل میں ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کا باضابطہ حکم دیا گیا۔
پارلیمانی انتخابات میں PAM سب سے بڑی جماعت بن گئی
فاطمہ الزہرا المنصوری کا تعلق آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی (PAM) سے ہے۔ پارٹی نے 23 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں 395 میں سے 97 نشستیں حاصل کیں۔
PAM کو حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا۔ پارٹی کو ایوان میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔
مراکش کی سیاست میں اہم پیش رفت
فاطمہ الزہرا المنصوری کی تقرری مراکش کی سیاسی تاریخ میں اہم پیش رفت ہے۔ وہ ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم ہیں۔ وہ تیونس کی نجلا بودن کے بعد عرب دنیا میں وزیراعظم بننے والی دوسری خاتون بھی ہیں۔
نئی حکومت کو مہنگائی، اجرتوں میں اضافے اور روزگار کے مسائل پر کام کرنا ہوگا۔ حکومت مراکش، اسپین اور پرتگال کی میزبانی میں ہونے والے 2030 فیفا ورلڈ کپ سے متعلق بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بھی نگرانی کرے گی۔
