Table of Contents
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سابق سی آئی اے افسر جولیا کرلی کو وائٹ ہاؤس سے برطرف کردیا۔ جولیا کرلی ٹرانس جینڈر خاتون ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جولیا کرلی تقریباً 20 سال تک سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سے وابستہ رہیں۔ وہ 2013 میں سی آئی اے میں اپنی جنس تبدیل کرنے والی پہلی افسر بھی بنی تھیں۔
جولیا کرلی کے مطابق ٹرمپ کی 2024 کی صدارتی کامیابی کے بعد انہیں وائٹ ہاؤس میں کام جاری رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس وقت ٹرمپ کی انتخابی مہم نے ٹرانس جینڈر افراد سے متعلق سخت پالیسی مؤقف اختیار کیا تھا۔
برطرفی کی وجہ نہیں بتائی گئی
جولیا کرلی نے بتایا کہ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد انتظامیہ کے اعلیٰ حکام ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہے۔
تاہم، ایک روز انہیں اپنے نئے باس کی فون کال موصول ہوئی۔ اس وقت وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ باربی کیو میں مصروف تھیں۔
جولیا کرلی کے مطابق فون پر انہیں ملازمت سے برطرف کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ انہیں برطرفی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔
صنفی شناخت سیاسی تنازع بن گئی
رپورٹ کے مطابق جولیا کرلی کی ٹرانس جینڈر شناخت اسی روز عوامی سطح پر سامنے آئی۔ دائیں بازو کی معروف سوشل میڈیا شخصیت لورا لومر نے ایکس پر ان کی شناخت ظاہر کی۔
لورا لومر نے وائٹ ہاؤس میں جولیا کرلی کی موجودگی پر بھی سوال اٹھایا تھا۔
جولیا کرلی کا کہنا ہے کہ ان کی صنفی شناخت کبھی ملازمت میں مسئلہ نہیں بنی تھی۔ تاہم، معاملہ عوامی اور سیاسی بحث کا حصہ بننے کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
ٹرمپ کے پہلے دور میں بھی اہم ذمہ داری ادا کی
جولیا کرلی نے بتایا کہ وہ 2017 میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ اس وقت انہوں نے نیشنل سکیورٹی کونسل میں خدمات انجام دیں۔
ان کے مطابق وہ سابق امریکی نائب صدر مائیک پینس کو روزانہ انٹیلی جنس بریفنگز بھی دیتی رہی تھیں۔
جولیا کرلی نے سی آئی اے میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پیشہ ورانہ کردار پر صنفی شناخت کا اثر نہیں پڑا تھا۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف
وائٹ ہاؤس کے ترجمان سے جولیا کرلی کی برطرفی کے بارے میں سوال کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ جو شخص صدر کے خلاف تنقید کرتے ہوئے اپنے بارے میں 3 ہزار الفاظ کا مضمون لکھے، وہ سرکاری ملازمت کے لیے موزوں نہیں۔
تاہم، دستیاب معلومات کے مطابق جولیا کرلی نے اپنی برطرفی کے وقت بتایا تھا کہ انہیں ملازمت سے نکالنے کی مخصوص وجہ نہیں بتائی گئی۔
یہ معاملہ امریکی حکومت میں ٹرانس جینڈر ملازمین کی پالیسی اور سرکاری اداروں میں صنفی شناخت کے حوالے سے جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آیا ہے۔
امریکی انتظامیہ میں ٹرانس جینڈر پالیسی
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرانس جینڈر افراد سے متعلق کئی سخت پالیسی اقدامات کی حمایت کی تھی۔
جولیا کرلی کا معاملہ اسی وسیع سیاسی بحث کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی شناخت اس وقت تک ملازمت میں رکاوٹ نہیں بنی جب تک یہ معاملہ سیاسی اور عوامی بحث کا حصہ نہیں بنا تھا۔
