ایران کے دارالحکومت تہران میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کر دی گئی، جس میں لاکھوں سوگواروں، اعلیٰ حکومتی شخصیات، عسکری قیادت اور غیر ملکی وفود نے شرکت کی۔ شہید رہبرِ اعلیٰ کے ساتھ ان کی بیٹی، بہو اور نواسی کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔
نمازِ جنازہ میں ایرانی صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، اعلیٰ سول و عسکری حکام سمیت متعدد اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں منعقد ہونے والی تقریب کے دوران انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں سوگوار اشکبار آنکھوں کے ساتھ اپنے رہنما کو الوداع کہتے رہے۔

جنازے کے اجتماع میں شریک افراد نے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جو ایران میں شہداء کے خون کا بدلہ لینے اور انتقام کی علامت تصور کیے جاتے ہیں۔ شرکاء نے ’’امریکا مردہ باد‘‘ اور ’’انتقام، انتقام‘‘ کے نعرے بھی بلند کیے، جس سے پورا ماحول سوگ اور جذبات سے بھر گیا۔
اس سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے جسدِ خاکی عوامی دیدار کے لیے تہران میں رکھے گئے، جہاں ہزاروں افراد نے حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق پیر کی صبح مرکزی جنازہ جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد جسدِ خاکی کو قم منتقل کیا جائے گا۔ بعد ازاں میت کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جبکہ 9 جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں نمازِ جنازہ ممتاز مذہبی رہنما جعفر سبحانی نے پڑھائی، جبکہ قم میں ناصر مکارم شیرازی اور مشہد میں حسین نوری ہمدانی آخری رسومات کی امامت کریں گے۔
ادھر سکیورٹی خدشات کے باعث آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شریک نہیں ہو سکے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کو خدشہ تھا کہ ان کی نقل و حرکت کے ذریعے اسرائیل ان کے ممکنہ مقام کا سراغ لگا سکتا ہے، اسی لیے انہیں عوامی تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای رواں سال 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اپنے خاندان کے متعدد افراد اور اعلیٰ حکام کے ساتھ شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد ایران بھر میں کئی روز سے قومی سوگ جاری ہے۔
