بیجنگ: چین نے اپنی فوج کی اعلیٰ قیادت میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے دو سینئر فوجی افسران کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چینی فوج میں جاری انسدادِ بدعنوانی مہم کے نتیجے میں متعدد اعلیٰ فوجی عہدیدار اپنے عہدوں سے ہٹائے جا چکے ہیں۔
چینی صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پنگ نے ایک خصوصی تقریب میں ژانگ شوگوانگ اور فضائیہ کے کمانڈر وانگ گینگ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دینے کے احکامات جاری کیے۔
رپورٹس کے مطابق ژانگ شوگوانگ کو مرکزی فوجی کمیشن کے اس شعبے کی سربراہی بھی سونپی گئی ہے جو فوج کے اندر بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات کا ذمہ دار ہے، جسے چینی فوج میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تقرریاں مستقبل میں مرکزی فوجی کمیشن کی خالی نشستیں پُر کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ سات رکنی اس اہم فوجی ادارے کے متعدد ارکان بدعنوانی کی تحقیقات کے باعث عہدوں سے ہٹائے جا چکے ہیں، جس کے بعد اس کی فعال رکنیت محدود ہو گئی ہے۔
مرکزی فوجی کمیشن کی سربراہی صدر شی جن پنگ کے پاس ہے، جبکہ اس وقت نائب چیئرمین ژانگ شینگمین اس کے واحد فعال سینئر رکن سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے قبل کمیشن کے دو سابق نائب چیئرمین بھی بدعنوانی کے الزامات کے بعد اپنے عہدوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چین کی قیادت فوج میں اصلاحات، احتساب اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ مکمل وفاداری کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطح پر تنظیمِ نو کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔
چین میں آئندہ سال موسمِ خزاں کے دوران مرکزی فوجی کمیشن کی نئی پانچ سالہ مدت کے لیے نئی قیادت کے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے پیشِ نظر حالیہ ترقیوں کو مستقبل کی اہم تقرریوں کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
