سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد اربوں ڈالر کما چکے ہیں اور انہوں نے صدارت کو ذاتی مالی مفادات کے لیے استعمال کیا۔
اپنے خطاب میں جوبائیڈن نے کہا کہ ٹرمپ کی دولت میں غیر معمولی اضافہ حیران کن ہے اور انہیں اس حوالے سے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو عوامی تاثر یا اخلاقی ذمہ داری کی کوئی پروا نہیں اور وہ اقتدار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
سابق صدر نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک صدارت سے مالی فائدہ حاصل کرنا ان بنیادی وجوہات میں شامل تھا جن کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی صدر بننا چاہتے تھے۔
جوبائیڈن نے اپنی تقریر میں خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے جان بوجھ کر نیٹو کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور امریکا کے روایتی اتحادیوں کے بجائے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ترجیح دی، جس سے مغربی اتحاد کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی عالمی قیادت مضبوط اتحادیوں اور بین الاقوامی تعاون پر منحصر ہے، جبکہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے ان تعلقات کو نقصان پہنچایا۔ بائیڈن نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ ہارے ہوئے شخص کے سوا کچھ نہیں۔”
دوسری جانب اس بیان پر وائٹ ہاؤس یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
