Table of Contents
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ روسی جہازوں پر قبضہ کیا گیا تو ماسکو جوابی کارروائی کرے گا۔
پیوٹن نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب یورپی یونین روس کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کے خلاف اقدامات بڑھا رہی ہے۔
یورپی ممالک نے روسی تیل کی تجارت سے منسلک متعدد جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ بعض بحری جہازوں اور ان کے عملے کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔
روسی جہازوں پر کارروائی کا ردعمل
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق پیوٹن نے یورپی اقدامات کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
روسی صدر نے کہا کہ اگر روسی جہازوں کو قبضے میں لینے کی کارروائی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو ماسکو جواب دینے پر مجبور ہوگا۔
انہوں نے ممکنہ روسی ردعمل کے دائرہ کار کے بارے میں بھی اہم بیان دیا۔
پیوٹن کے مطابق روس کی کارروائی صرف ان علاقوں تک محدود نہیں ہوگی جہاں روسی جہازوں کو روکا گیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ روس جہاں ضروری اور مناسب سمجھے گا، وہاں کارروائی کرسکتا ہے۔
یورپ کا روسی شیڈو فلیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن
یورپی یونین گزشتہ کچھ عرصے سے روس کے شیڈو فلیٹ کے خلاف کارروائیاں تیز کر رہی ہے۔
شیڈو فلیٹ سے مراد ایسے جہازوں کا نیٹ ورک ہے جو روسی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے کا الزام رکھتے ہیں۔
یورپی حکومتیں ایسے جہازوں کے خلاف سمندری نگرانی اور نفاذ کے اقدامات بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہیں۔
کچھ یورپی ممالک نے ایسے بحری جہازوں کی جانچ کی ہے جن پر پابندیوں سے بچنے کا شبہ ہے۔
پیوٹن کا نیٹو پر بھی الزام
پیوٹن نے نیٹو پر ایشیا پیسیفک خطے میں سرگرمیاں بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خطے میں نئے فوجی اور سیاسی اتحاد تشکیل دیے جا رہے ہیں۔
روسی صدر کے مطابق روس کے لیے خطرہ بننے والے نئے ہتھیاروں کے نظام بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔
پیوٹن نے آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس اور یورپی ممالک کے درمیان پابندیوں اور سمندری تجارت کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔
