Table of Contents
واشنگٹن/قاہرہ: امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر شدید فوجی جھڑپ ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔
امریکی فوج نے ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے متعلق متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران نے بھی خطے میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
اس نئی کشیدگی نے خطے میں جنگ پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے منگل کو ایران میں کئی فوجی اہداف پر حملے کیے۔
امریکی فوج نے IRGC کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ ریڈار سسٹم بھی حملوں کی زد میں آئے۔
اس کے علاوہ سمندری اثاثوں، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا نے آبنائے ہرمز کے قریب مختلف مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات دیں۔
ایران کا امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ
ایرانی حکام کے مطابق ایران نے خطے میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے بحرین، اردن، کویت اور عراق میں امریکی اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا۔
IRGC نے اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا۔ تاہم، دو امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدائی جائزوں میں امریکی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
کویت میں امریکی اڈے پر حملے کا دعویٰ
IRGC نے بدھ کو کویت کے علی السالم ایئر بیس پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا۔
ایرانی فورسز کے مطابق حملے میں امریکی کمانڈر کی رہائش اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
کویت کی فائر سروس کے مطابق دارالحکومت میں ایک رہائشی کمپلیکس میں آگ لگی۔ حکام نے بتایا کہ علاقے کو ایک ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا تھا۔
واقعے میں نقصان کی اطلاع ملی۔ تاہم، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
اردن اور بحرین میں بھی کشیدگی
اردن کی مسلح افواج نے کہا کہ اس کے فضائی دفاع نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 بیلسٹک میزائلوں سے نمٹا۔
حکام کے مطابق 10 میزائلوں کو روک لیا گیا۔ باقی تین میزائل دور دراز علاقوں میں گرے۔
بحرین نے بھی ایک ایرانی ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
عراق میں امریکی اڈوں پر حملے کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب نے شمالی عراق کے شہر اربیل میں امریکی اڈوں پر حملے کا بھی دعویٰ کیا۔
IRGC کے مطابق حملے میں میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔
ایرانی فورسز نے متعدد امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ تاہم، عراق اور امریکہ نے اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔
ٹرمپ کی ایران کو مزید سخت حملوں کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی موجودہ پوزیشن پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور ایرانی معیشت سے متعلق بھی سخت بیان دیا۔
امریکی صدر نے ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا سوال بھی کیا۔
دوسری جانب ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے سخت ردعمل کی دھمکی دی۔
ایرانی حکام نے کہا کہ خطے میں امریکی کارروائیوں میں مدد دینے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قطر نے کشیدگی پر تشویش ظاہر کردی
قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
قطر نے جون کی جنگ بندی میں ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کیا تھا۔ تاہم، وہ جنگ بندی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی۔
قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ ایرانی حملے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔
قطر نے ایران کو ان حملوں اور ان کے نتائج کا قانونی طور پر ذمہ دار قرار دیا۔
شادی کی تقریب میں ہلاکتوں کی اطلاع
ایرانی ہلال احمر کے مطابق آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقے سیرک میں ایک شادی کی تقریب بھی حملے کی زد میں آئی۔
ایرانی حکام کے مطابق واقعے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔
مہر نیوز کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک چار سالہ بچہ بھی شامل تھا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے IRNA نے ایک صوبائی عہدیدار کے حوالے سے زخمیوں کی تعداد 68 بتائی۔
امریکی حکام نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ایران نے امریکی حملوں کی مذمت کردی
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی۔
وزارت خارجہ نے جنگ کے دوران ہونے والے دیگر واقعات کا بھی حوالہ دیا۔ ان میں میناب میں لڑکیوں کے اسکول سے متعلق ہلاکت خیز واقعہ بھی شامل تھا۔
ایرانی حکام نے کہا کہ ان واقعات کو پہلے کے حملوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع نے میناب حملے کے بارے میں ابھی تک باضابطہ نتیجہ جاری نہیں کیا۔
خوزستان میں بھی ہلاکتوں کی اطلاع
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صوبہ خوزستان میں تین مقامات کو رات گئے امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
صوبائی نائب گورنر کے مطابق ان حملوں میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ مزید آٹھ افراد زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک ان حملوں کا سخت جواب دے گا۔
عالمی منڈیوں پر بھی اثرات
امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کیا۔
بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں دباؤ دیکھا گیا۔ نئے امریکی حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری کی پیداوار بھی تقریباً تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
تجارتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی تشویش نے عالمی سطح پر بانڈز کی فروخت میں بھی اضافہ کیا۔
جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ
امریکہ اور ایران کے درمیان نئی فوجی کارروائیوں نے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے۔
دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ خطے کے کئی ممالک بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔
نئی جھڑپوں کے بعد خطے میں وسیع تر جنگ کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔
