عرب اسرائیلیوں کی نمائندگی کرنے والی چار بڑی جماعتوں میں سے تین نے مشترکہ انتخابی اتحاد کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو اسرائیلی سیاست میں عرب ووٹ کو مؤثر بنانے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرب جماعتوں حدش، طال اور بلاد نے مشترکہ طور پر انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک مرتبہ پھر "مشترکہ فہرست” (Joint List) کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تینوں جماعتوں نے چوتھی عرب جماعت رعام (Raam) کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے دروازے بدستور کھلے ہیں۔
حدش کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت وسیع ترین ممکنہ عرب اتحاد کی حامی ہے، تاہم سیاسی غیر یقینی صورتحال کو مزید طول نہیں دیا جا سکتا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر رعام بعد میں بھی اتحاد میں شامل ہونا چاہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق چاروں جماعتوں نے رواں سال جنوری میں مشترکہ انتخابی حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم مختلف سیاسی نکات پر اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ خاص طور پر رعام کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا تھا کہ اتحاد صرف تکنیکی نوعیت کا ہو تاکہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کے عمل میں اس کی سیاسی آزادی برقرار رہے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق ایک اور اہم اختلاف اس مطالبے پر سامنے آیا کہ اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں ایسی کسی حکومت کی مخالفت نہ کریں جس میں رعام مستقبل میں شامل ہونے کا فیصلہ کرے۔ یہی مسئلہ چاروں جماعتوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے میں بڑی رکاوٹ بنا رہا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عرب جماعتیں متحد ہو کر انتخابات میں حصہ لیتی ہیں تو ان کی پارلیمانی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مختلف رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق مشترکہ اتحاد کی صورت میں عرب جماعتیں 12 سے 15 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں، جبکہ الگ الگ انتخابات لڑنے کی صورت میں ان کی مجموعی نشستوں کی تعداد کم ہونے کا امکان ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اتحاد نہ صرف عرب ووٹوں کے بکھراؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اسرائیلی سیاست میں عرب شہریوں کے اثر و رسوخ کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا رعام بھی اس اتحاد میں شامل ہوتی ہے یا آئندہ انتخابات میں الگ سیاسی راستہ اختیار کرتی ہے۔
اسرائیل میں عرب جماعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی سیاست شدید تقسیم اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، اور آئندہ انتخابات میں ہر نشست حکومت سازی کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
