امریکی افواج نے شام 5:15 بجے (مشرقی امریکی وقت) ایران کے مختلف اہداف کے خلاف اضافی حملے شروع کیے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں "ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت” کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی حالیہ سرگرمیوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دے گا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کو صرف "ایک دستاویز پر دستخط” کرنا ہوں گے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی واضح کیا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ خطے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق قطر کا ایک وفد تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان باقی ماندہ اختلافات کو کم کیا جا سکے اور کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی امریکی کارروائیوں نے خطے میں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم فوجی کشیدگی میں اضافہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری اس بحران پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر دونوں فریق تحمل کا مظاہرہ نہ کریں تو صورتحال وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
