Table of Contents
امریکا نے ایران کے ساتھ جاری تنازعے کے باعث جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کردی ہیں۔ یہ مشقیں اگلے ماہ ہونے والی تھیں۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج نے مشقیں منسوخ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جنوبی کورین حکام کے مطابق امریکا نے فوجیوں کی کمی سے متعلق آگاہ کیا تھا۔
فوجیوں کی کمی کے باعث مشقیں منسوخ
جنوبی کورین فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ایران جنگ کے باعث امریکی فوجیوں کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور جنوبی کوریا مشقوں کی بحالی پر مشاورت کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دونوں ممالک باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقیں کرتے ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد شمالی کوریا کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہے۔
ٹرمپ نے مشقیں کم کرنے کا اعلان کیا تھا
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے ان مشقوں کو مہنگا قرار دیا تھا۔
ٹرمپ کے مطابق ایسی مشقیں شمالی کوریا کو امریکا اور جنوبی کوریا کی دشمنی کا پیغام دیتی ہیں۔
امریکی صدر نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کے درمیان انتہائی اچھے تعلقات رہے ہیں۔
ٹرمپ کا مشترکہ مشقوں پر مؤقف
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے کئی سال قبل جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم وہ اب اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مشقوں پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ان اخراجات کا بڑا حصہ امریکا برداشت کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشقیں شمالی کوریا کے لیے نامناسب اور دشمنی پر مبنی پیغام بھیجتی ہیں۔
ایران جنگ کے وسیع اثرات
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازعے کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس ہو رہے ہیں۔ امریکی فوجی وسائل کی ترجیحات میں تبدیلی نے جنوبی کوریا کے ساتھ دفاعی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
واشنگٹن اور سیول اب مشترکہ فوجی مشقوں کے مستقبل پر بات چیت کر رہے ہیں۔ نئی صورتحال میں دونوں ممالک کے لیے شمالی کوریا کے خلاف دفاعی تیاری برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج ہوگا۔
