Table of Contents
اسلام آباد: پاکستان نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بدھ کو پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان علاقائی کشیدگی کے دوران تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان براہ راست اور بالواسطہ ذرائع سے سفارتی رابطے جاری رکھے گا۔
ان کے مطابق اسلام آباد زیر التوا معاملات پر تعمیری مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جب مذاکرات کی ضرورت کشیدگی بڑھانے کی سوچ پر غالب آئے گی تو فریقین دوبارہ بات چیت کی طرف واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے اثرات کم کرنے کے لیے بھی اپنا کردار جاری رکھے گا۔
بحرین کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان متوقع
ترجمان کے مطابق بحرین کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد پاکستان کے دورے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
اسحاق ڈار نے مجوزہ دورے کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وضاحت
بریفنگ میں 7 اگست کو ہونے والی مکہ سربراہی کانفرنس بھی زیر بحث آئی۔
اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت نے شرکت کی۔
طاہر حسین اندرابی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو تینوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کا فطری قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔
ترجمان کے مطابق معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اس کا مقصد مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانا اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں تعاون بڑھانا ہے۔
معاہدے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی وضاحت
ترجمان نے مکہ دفاعی معاہدے پر داخلی طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب بھی دیا۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ معاہدہ متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا۔
ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور معاہدے کے ایک دستخط کنندہ ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ترجمان نے کہا کہ معاہدے سے متعلق تمام داخلی طریقہ کار طے شدہ قواعد کے مطابق مکمل کیے گئے۔
پاکستان کے سفارتی رابطوں میں تیزی
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی اور عالمی شراکت داروں سے سفارتی رابطے مزید بڑھا دیے ہیں۔
10 اگست کو اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ایران اور کویت کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ گفتگو کی۔
ان رابطوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مکہ دفاعی معاہدہ اور امن کے لیے سفارتی کوششیں بھی گفتگو کا حصہ رہیں۔
محسن نقوی کا دورہ ایران
ترجمان نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں۔
وہ تہران میں اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی امور اور علاقائی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔
بحیرہ احمر میں پاکستانیوں کی ہلاکت
ترجمان نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی بحری جہاز پر حملے کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے بتایا کہ دستیاب معلومات کے مطابق حملے میں تین پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا ہے۔
پاکستان واقعے کی مزید معلومات کے لیے سعودی حکام سے رابطے میں ہے۔
اسلام آباد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے بھی رابطہ کر رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
زخمی پاکستانی شہری کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی بحری سلامتی کے عزم کا اعادہ
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے بحری سلامتی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ترجمان کے مطابق غیر جنگی تجارتی جہازوں پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
ایسے حملے انسانی جانوں اور عالمی تجارتی راستوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
پاکستان عالمی سپلائی چینز کے تحفظ کے لیے سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
آزاد کشمیر سے متعلق بھارتی الزامات مسترد
دفتر خارجہ کے ترجمان نے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات کو بھی مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اپنے ریکارڈ پر توجہ دے۔
آئی ایم ایف پروگرام پر بھی بریفنگ
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تین جائزے کامیابی سے مکمل کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کا مقصد اصلاحات اور مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستان نے معاشی استحکام کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
