Table of Contents
واشنگٹن: روس سے رہائی پانے والا سابق امریکی میرین رابرٹ گلمین امریکا پہنچ گیا ہے۔ وہ روس میں چار سال سے زائد عرصے سے قید تھا۔
رابرٹ گلمین کی رہائی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطے کے بعد عمل میں آئی۔
ٹرمپ نے بتایا کہ پیوٹن نے گلمین کو انسانی بنیادوں پر رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ گلمین کی صحت بھی اس فیصلے میں اہم وجہ بنی۔
رابرٹ گلمین امریکا واپس پہنچ گئے
رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کا طیارہ گلمین کو لے کر واشنگٹن کے قریب ڈلس ایئرپورٹ پہنچا۔
امریکی حکام کے مطابق گلمین کی صحت پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے۔ انہیں مزید طبی اور نفسیاتی نگہداشت کے لیے ٹیکساس کے شہر سان انتونیو منتقل کیا جائے گا۔
گلمین کی رہائی کسی قیدیوں کے تبادلے کے تحت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کے مطابق روس نے اس کے بدلے کسی روسی شہری کی رہائی کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔
روس میں گرفتاری اور سزا
رابرٹ گلمین کو جنوری 2022 میں روس کے شہر وورونیش میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر ایک پولیس اہلکار پر حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بعد میں ان کی سزا میں کئی مرتبہ اضافہ کیا گیا اور یہ 10 سال تک پہنچ گئی۔
امریکی حکومت نے گلمین کی حراست کو غلط قرار دیا تھا۔ ان کے خاندان نے بھی ان کے خلاف الزامات اور روسی حراست کے دوران ان کی حالت پر تشویش ظاہر کی تھی۔
صحت کی خرابی کے باعث رہائی
گلمین کی صحت روسی حراست کے دوران شدید متاثر ہوئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق انہیں جون کے آخر میں جیل کے اسپتال سے ایک نفسیاتی وارڈ منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی حالت کے بارے میں شدید تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
ٹرمپ نے گلمین کی رہائی کا خیر مقدم کیا اور اسے انسانی بنیادوں پر ہونے والا اہم فیصلہ قرار دیا۔
گلمین کی رہائی کے بعد امریکی حکام نے روس میں زیر حراست دیگر امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے بھی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
