امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے سے متعلق ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایرانی عوام کو سوگ مناتے دیکھ کر حیرت ہوئی، کیونکہ ان کے خیال میں لوگ آیت اللہ خامنہ ای سے نفرت کرتے تھے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کے ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ایرانی عوام اپنے سپریم لیڈر کے خلاف ہیں، تاہم جنازے میں لاکھوں افراد کی موجودگی اور سوگ کے مناظر ان کے لیے غیر متوقع تھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ممکن ہے جنازے میں دکھائے جانے والے جذبات "بناوٹی آنسو” ہوں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکا چاہتا تو اس موقع پر جمع ایرانی قیادت کو ایک ہی کارروائی میں نشانہ بنا سکتا تھا، تاہم ایسا اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ اس صورت میں مذاکرات کے لیے کوئی قیادت باقی نہ رہتی۔
دوسری جانب امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی عوام کسی کو اپنی آزادی چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکا دنیا کی سب سے طاقتور اور بہترین قوم ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں ہر شہری کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور امریکا پوری دنیا کے لیے امید کی علامت ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں امریکا نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے وینزویلا اور ایران کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ امریکی فوج کو دنیا کی سب سے مضبوط فوج قرار دیا۔
ٹرمپ نے اپنی ممکنہ تیسری صدارتی مدت سے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں بات کر سکتے ہیں، لیکن مزید تنازع پیدا نہیں کرنا چاہتے۔
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات جاری ہیں اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
