Table of Contents
اسلام آباد: اسلام آباد میں آسیان کمیٹی نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
آسیان کمیٹی میں برونائی دارالسلام، انڈونیشیا، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنام کے سفارتی مشنز شامل ہیں۔
کمیٹی نے 19 اگست کو جاری مشترکہ بیان میں آسیان کے علاقائی کردار اور پاکستان کے ساتھ تعاون پر روشنی ڈالی۔

آسیان کے سفر کو سراہا گیا
مشترکہ بیان میں آسیان کے قیام سے اب تک کے سفر کو اجاگر کیا گیا۔
آسیان اعلامیہ پر 8 اگست 1967 کو بنکاک میں دستخط ہوئے تھے۔
تنظیم اب ایک متحرک اور بااثر علاقائی برادری بن چکی ہے۔
کمیٹی نے باہمی احترام اور پرامن تنازعات کے حل کو اہم اصول قرار دیا۔
عدم مداخلت کے اصول کو بھی علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
2026 آسیان کے لیے اہم سال
ACI کے مطابق 2026 آسیان کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ ASEAN Community Vision 2045 پر عملدرآمد کا پہلا سال ہے۔
اس وژن کا مقصد ایک مضبوط اور اختراعی علاقائی برادری قائم کرنا ہے۔
اس میں عوام کو مرکزی حیثیت دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
2026 میں جنوب مشرقی ایشیا میں امن اور تعاون کے معاہدے کی 50ویں سالگرہ بھی ہے۔
تیمور لیستے آسیان کا نیا رکن بن گیا
آسیان کمیٹی نے تیمور لیستے کو تنظیم کا 11واں رکن بننے پر خوش آمدید کہا۔
کمیٹی نے اسے آسیان کی تاریخ میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
بیان کے مطابق نئی رکنیت سے تنظیم کی علاقائی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
فلپائن کی سربراہی میں آسیان کی ترجیحات
2026 میں آسیان کی سربراہی فلپائن کے پاس ہے۔
اس سال تنظیم کا موضوع "ہمارا مستقبل، ایک ساتھ آگے بڑھنا” رکھا گیا ہے۔
آسیان نے تین بنیادی ترجیحات مقرر کی ہیں۔
پہلی ترجیح امن اور سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
دوسری ترجیح عوام کو بااختیار بنانا ہے۔
تیسری ترجیح خوشحالی کے لیے راہداریوں کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کے ساتھ شراکت داری اہم قرار
ACI نے پاکستان کے ساتھ جاری شراکت داری کو بھی اہمیت دی۔
پاکستان کو 1993 میں آسیان کا سیکٹرل ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ ملا تھا۔
پاکستان نے 2004 میں جنوب مشرقی ایشیا میں امن اور تعاون کے معاہدے سے الحاق کیا۔
کمیٹی نے آسیان ریجنل فورم میں پاکستان کی فعال شرکت کو بھی سراہا۔
اس فورم کو دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔
تجارت اور ڈیجیٹل تعاون بڑھانے پر زور
ACI نے آسیان اور پاکستان کے درمیان تعاون مزید بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی۔
کمیٹی نے کئی اہم شعبوں کی نشاندہی کی۔
ان میں تجارت اور سرمایہ کاری سرفہرست ہیں۔
کنیکٹوٹی اور ڈیجیٹل تبدیلی بھی اہم شعبوں میں شامل ہیں۔
تعلیم اور موسمیاتی لچک پر بھی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی کو بھی ترجیح دی گئی۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
لوگوں کے درمیان روابط بڑھانے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
پاکستان میں آسیان کی موجودگی برقرار رکھنے کا عزم
ACI نے موجودہ عالمی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
کمیٹی نے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی کو اہم چیلنجز قرار دیا۔
اس کے باوجود پاکستان میں اپنی اجتماعی موجودگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ACI پاکستان کی حکومت اور سفارتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔
تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ روابط بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
کمیٹی کے مطابق اس تعاون کا مقصد باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا ہے۔
امن اور خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم
ACI نے کہا کہ آسیان کی طاقت صرف اس کی اقتصادی اہمیت تک محدود نہیں۔
علاقائی عوام کے درمیان مضبوط روابط بھی تنظیم کی بڑی طاقت ہیں۔
کمیٹی نے پرامن، جامع اور خوشحال خطے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
آسیان نے پاکستان اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
