Table of Contents
پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری ہے۔ قافلہ لکی مروت سے روانہ ہو کر کرک پہنچ گیا۔
سہیل آفریدی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور سے لکی مروت پہنچے تھے۔ کارکنوں نے ہیلی پیڈ پر ان کا استقبال کیا۔
وزیراعلیٰ نے گنڈی چوک لکی مروت سے مارچ کا آغاز کیا۔ قافلے میں مختلف اضلاع سے کارکن شامل ہوئے۔
سہیل آفریدی کا بند کمروں کی پالیسی پر مؤقف
کارکنوں سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے مفاد کے خلاف پالیسی قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں بنائی جانے والی ایسی پالیسی قابل قبول نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق صوبے کے مفادات کو ترجیح دی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی عوام کی طاقت سے سڑکوں پر نکلی ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے مارچ میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی۔
وزیراعلیٰ کا امن و امان سے متعلق دعویٰ
سہیل آفریدی نے موجودہ وفاقی حکومت کی پالیسی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی میں کمی نہیں آئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کے دور میں امن کی صورتحال بہتر تھی۔ ان کے مطابق موجودہ پالیسی سے دہشت گردی مزید بڑھی ہے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی تجویز کردہ پالیسی سے 100 دن میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے۔
لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ
پی ٹی آئی کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق قافلہ کرک کے بعد کوہاٹ کی جانب بڑھے گا۔ بعد میں مارچ پشاور اور چارسدہ کی طرف جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ کرک میں رات قیام کریں گے۔ اگلے روز قافلہ یہاں سے روانہ ہوگا۔
پی ٹی آئی نے 8 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے کارکنوں کو خیرباد میں جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہاں مارچ کے اگلے مرحلے سے متعلق حکمت عملی بتائی جائے گی۔
وفاقی حکومت پہلے ہی مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کا اعلان کر چکی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔
