Table of Contents
اسلام آباد: پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خوریف نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین روس کے خلاف مکمل پیمانے کی ہائبرڈ جنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے مغربی حمایتی بھی اس تنازع میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
روسی سفیر نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران یوکرین کی جنگ اور اس سے جڑے عالمی معاملات پر روس کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے روسی شہریوں کے خلاف مبینہ حملوں کو بھی اپنی گفتگو کا حصہ بنایا۔
کیف پر روسی سفیر کے الزامات
البرٹ خوریف نے الزام عائد کیا کہ کیف حکومت نے روسی شہریوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے دہشت گردانہ حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کی کارروائیوں میں روسی سرزمین اور شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
روسی سفیر نے کہا کہ یوکرین کو مغربی ممالک سے بڑے پیمانے پر فوجی اور مالی معاونت مل رہی ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران یہ امداد 160 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کی فوجی اور مالی معاونت کرنے والے ممالک کی تعداد 54 ہے۔ خوریف نے اس حمایت کو روس اور مغرب کے درمیان وسیع تر کشیدگی کا حصہ قرار دیا۔
مغربی پابندیوں پر روسی مؤقف
روسی سفیر نے مغربی پابندیوں کے اثرات پر بھی بات کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس کے خلاف عائد پابندیاں روسی معیشت کو تباہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
البرٹ خوریف کے مطابق ان پابندیوں کے نتیجے میں یورپی یونین کو بھی بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے اس نقصان کا تخمینہ ایک سے 1.6 ٹریلین یورو تک بتایا۔
ان دعوؤں پر یورپی یونین کا مؤقف مختلف ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ روس کے خلاف پابندیوں کا مقصد ماسکو کی جنگی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ یورپی یونین روس پر مزید پابندیوں کی تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
بحری قانون کی خلاف ورزی کا الزام
روسی سفیر نے مغربی ممالک پر بین الاقوامی بحری قانون کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مخصوص واقعات کی مزید تفصیلات میڈیا بریفنگ میں بیان نہیں کیں۔
روس اور مغربی ممالک کے درمیان یوکرین جنگ کے باعث سفارتی، اقتصادی اور سلامتی کے معاملات پر کشیدگی برقرار ہے۔ یورپی یونین روسی اقدامات کے جواب میں پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
روس مذاکرات کے لیے تیار ہے
البرٹ خوریف نے کہا کہ روس یوکرینی بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہے۔
روسی سفیر نے مذاکرات اور سفارت کاری کو بحران کے حل کا راستہ قرار دیا۔ روسی حکام اس سے قبل بھی یوکرین تنازع کے لیے مذاکراتی حل کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔
پاکستان میں روسی سفیر نے ماضی میں بھی یوکرین تنازع کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ فروری 2025 میں انہوں نے عالمی جنوب کے ممالک کی جانب سے غیر عسکری حل کی کوششوں کو سراہا تھا۔
