Table of Contents
برازیلیا: برازیل کے صدارتی انتخابات میں فلاویو بولسونارو نے توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ وہ پہلے مرحلے کے بعد صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے ساتھ رن آف میں پہنچ گئے ہیں۔
فلاویو بولسونارو نے تقریباً 47 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ لولا دا سلوا کو تقریباً 44.9 فیصد ووٹ ملے۔ یہ نتائج تقریباً 99 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آئے۔
دونوں امیدوار اب 25 اکتوبر کو دوسرے مرحلے میں مدمقابل ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں 12 امیدواروں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا۔
فلاویو بولسونارو کی توقعات سے بہتر کارکردگی
انتخابات سے قبل زیادہ تر نجی سروے لولا کو معمولی برتری دے رہے تھے۔ بعض جائزوں میں لولا کو تقریباً تین فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔
نتائج میں فلاویو بولسونارو نے ان اندازوں سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ ان کے بہتر نتیجے نے دوسرے مرحلے کی انتخابی مہم کو اہم بنا دیا ہے۔
تھنک ٹینک ایگاراپے انسٹی ٹیوٹ کے شریک بانی رابرٹ مگا نے کہا کہ رائے عامہ کے جائزوں میں بڑا فرق سامنے آیا۔ ان کے مطابق دوسرے مرحلے کے سروے بھی بولسونارو کی حمایت کم ظاہر کر سکتے ہیں۔
لولا کو مہنگائی اور معاشی مسائل کا سامنا
انتخابی مہم میں مہنگائی اور روزمرہ اخراجات اہم موضوعات رہے۔ عوامی تحفظ اور بدعنوانی بھی نمایاں مسائل میں شامل تھے۔
لولا حکومت کے دوران بے روزگاری اور عدم مساوات میں کمی آئی ہے۔ تاہم زندگی کے بڑھتے اخراجات نے کئی ووٹرز کو متاثر کیا۔
گھریلو قرضوں اور جرائم کے خدشات بھی انتخابی بحث کا حصہ رہے۔ بولسونارو نے بڑھتے اخراجات کے مسئلے کو اپنی مہم میں نمایاں کیا۔
برازیل کے عوامی قرضوں میں اضافہ
برازیل کو مالیاتی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ ملک کا عوامی قرض مجموعی قومی پیداوار کے 82 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔
حکومت نے رواں سال کی معاشی ترقی کا تخمینہ 2 فیصد کردیا ہے۔ آئندہ سال کے لیے بھی شرح نمو کا اندازہ 2.3 فیصد رکھا گیا ہے۔
یہ معاشی مسائل دوسرے مرحلے کی انتخابی مہم میں اہم موضوع رہ سکتے ہیں۔ تاہم دونوں امیدواروں کے درمیان پالیسی مباحثہ پہلے مرحلے میں محدود رہا۔
فلاویو بولسونارو سابق صدر کے بیٹے ہیں
فلاویو بولسونارو سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں۔ وہ برازیل کی لبرل پارٹی کے امیدوار ہیں۔
جائر بولسونارو کو 2022 کے انتخابی نتائج تبدیل کرنے کی سازش کے مقدمے میں 27 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ فلاویو نے اپنی انتخابی مہم میں اپنے والد کے سیاسی اثر کو بھی استعمال کیا۔
دوسرے مرحلے میں سخت مقابلہ متوقع
فلاویو بولسونارو نے پہلے مرحلے میں احتجاجی ووٹ ملنے کی توقع ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق کچھ ووٹر لولا کی مخالفت میں ان کی حمایت کرسکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار رافیل فاویٹی نے بھی احتجاجی ووٹ کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ ووٹ دوسرے مرحلے کی صورتحال کا ایک اشارہ ہوسکتا ہے۔
25 اکتوبر کا رن آف برازیل کے آئندہ سیاسی رخ کا فیصلہ کرے گا۔ دونوں امیدواروں کو پہلے مرحلے میں 50 فیصد سے کم ووٹ ملے ہیں۔
