Table of Contents
ریاض: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا۔ اجلاس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔
ترک وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے پر بھی بات ہوگی۔
تینوں ممالک کے اہم حکام کی شرکت
اجلاس میں وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع شریک ہوں گے۔ تینوں ممالک کے عسکری سربراہان بھی اجلاس میں موجود ہوں گے۔
ترکی کی نمائندگی وزیر خارجہ ہاکان فیدان کریں گے۔ وزیر دفاع یاشار گولر بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائراکتار اوغلو بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے متعلقہ حکام بھی شریک ہوں گے۔
مکہ دفاعی معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے پر غور
ترک فریق اجلاس میں دفاعی اتحاد کو مضبوط بنانے کا اپنا وژن پیش کرے گا۔ مستقبل کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
علاقائی امن اور سلامتی کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ تینوں ممالک کے درمیان عملی تعاون بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
ترکی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دے گا۔ پرامن طریقے سے تنازعات حل کرنے کی اہمیت اجاگر کی جائے گی۔
سعودی عرب کے لیے ترکی کی حمایت کا اعادہ
اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش حوثی حملوں پر بھی بات ہوگی۔ ترکی سعودی عرب کے ساتھ اپنی حمایت کا اعادہ کرے گا۔
ترک حکام کے مطابق مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز پر زور دیا جائے گا۔
مکہ معاہدے کا پہلا اجلاس استنبول میں ہوا
مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا۔ اس اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع شریک ہوئے تھے۔
تینوں ممالک کے عسکری سربراہان نے بھی پہلے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ فریقین نے معاہدے کے تحت تعاون آگے بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔
تینوں ممالک نے خطے میں پائیدار امن کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے اور تحمل کے فروغ پر بھی زور دیا تھا۔
حوثی حملوں اور یمن کی صورتحال بھی ایجنڈے میں
مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی پر بات ایسے وقت ہو رہی ہے جب یمن میں صورتحال کشیدہ ہے۔ یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اجلاس کے انعقاد کی تصدیق کی تھی۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے کی تجویز پر بھی غور ہوسکتا ہے۔
تینوں ممالک معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی تعاون کا طریقہ کار وضع کر رہے ہیں۔ معاہدے میں ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کرنے کی شق شامل ہے۔
