Table of Contents
اسلام آباد: تیونس نے پاکستان کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA) کرنے میں دلچسپی ظاہر کردی۔
تیونس کی چارج ڈی افیئرز دورسف معروفی نے کہا ہے کہ معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے یہ بات اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں اپنے اعزاز میں دیے گئے الوداعی استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
تقریب میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
پاکستان اور تیونس کے تجارتی تعلقات
دورسف معروفی نے کہا کہ پاکستان اور تیونس کو اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے جاری کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترجیحی تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے کاروباری شعبوں کے لیے نئے راستے کھول سکتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں تیونس کے مؤقف کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
آئی سی سی آئی کے وفد کا تیونس کا دورہ
تیونس کی سفارتی نمائندے نے 2025 میں آئی سی سی آئی کے بڑے کاروباری وفد کے دورہ تیونس کو بھی یاد کیا۔
وفد نے بین الاقوامی کافی فیسٹیول میں شرکت کی تھی۔
اس دوران مختلف چیمبرز آف کامرس کے ساتھ معاہدے بھی کیے گئے تھے۔
دورسف معروفی نے اس دورے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے جانشین کے دور میں بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔
پاکستان معروفی کی سفارتی زندگی کا اہم حصہ
دورسف معروفی نے کہا کہ پاکستان ان کی پہلی سفارتی ذمہ داری کے دوران زندگی کا اہم حصہ بن گیا۔
انہوں نے پاکستان میں گزارے وقت کو اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کے لیے اہم قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے جسمانی طور پر دور ہونے کے باوجود یہ ملک ان کی یادوں میں ہمیشہ رہے گا۔
انہوں نے تیونس واپسی کے بعد بھی دونوں ممالک کی دوستی کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان اور تیونس کے تاریخی تعلقات
یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سیکریٹری جنرل ظفر بختاوری نے پاکستان اور تیونس کے تعلقات کو گہرا اور برادرانہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات مضبوط ہیں۔
تاہم اقتصادی اور تجارتی روابط کو بھی اسی سطح تک لے جانے کی ضرورت ہے۔
ظفر بختاوری نے دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کا حوالہ بھی دیا۔
انہوں نے بتایا کہ 1951 میں حبیب بورقیبہ نے کراچی کا دورہ کیا تھا۔
اس وقت وہ تیونس کی آزادی کی تحریک کے لیے عالمی حمایت حاصل کررہے تھے۔
پاکستان نے تیونس کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کی تھی۔
ان کے مطابق یہ تعلق تیونس کی آزادی سے بھی پہلے قائم ہوچکا تھا۔
تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
ظفر بختاوری نے کہا کہ تاریخی تعلقات کو عملی اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنا چاہیے۔
انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت بڑھانے پر زور دیا۔
دونوں ممالک کے کاروباری افراد کے درمیان براہ راست روابط بھی ضروری قرار دیے گئے۔
ان کے مطابق مضبوط کاروباری روابط نئے اقتصادی مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے دورسف معروفی کی پانچ سالہ سفارتی خدمات کو بھی سراہا۔
افریقہ کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھانے کی ضرورت
آئی سی سی آئی کے قائم مقام صدر عرفان چوہدری نے افریقی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے دوستانہ تعلقات کو اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق افریقہ کے ساتھ تجارت پاکستانی کاروباری برادری کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔
انہوں نے پاکستان اور تیونس کے تعلقات کے لیے دورسف معروفی کی خدمات کو بھی سراہا۔
تیونس کی علمی اور ثقافتی اہمیت
جماعت اسلامی پاکستان کے ڈائریکٹر امور خارجہ آصف لقمان قاضی نے تیونس کے تاریخی کردار کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اسلامی تہذیب میں تیونس کی علمی اور ثقافتی خدمات پر روشنی ڈالی۔
ان کے مطابق تیونس تاریخی طور پر علم اور تعلیم کا اہم مرکز رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان اور تیونس کی دوستی کو قابل فخر قرار دیا۔
آصف لقمان قاضی نے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے دورسف معروفی کی خدمات کو سراہا۔
