برسلز: یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیر روس کے خلاف مجوزہ 21ویں پابندیوں کے پیکج پر اتفاق رائے قائم کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد اس معاملے پر مزید مذاکرات 23 جولائی تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق برسلز میں ہونے والے اجلاس میں سفیروں نے نئے پابندیوں کے پیکج پر تفصیلی غور کیا، تاہم تمام رکن ممالک کے درمیان اتفاق نہ ہونے کے باعث کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ شروع کیے جائیں گے، جہاں مختلف نکات پر رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اسی دوران روسی یورال خام تیل کے لیے مجوزہ 44 ڈالر فی بیرل کی قیمت کی حد (Price Cap) سے متعلق فیصلہ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ قیمت کی حد میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی اور یہ معاملہ بھی 23 جولائی کو دوبارہ زیر غور آئے گا۔
یاد رہے کہ یورپی یونین نے 15 جولائی کو روس کے خلاف 21ویں پابندیوں کے پیکج کی منظوری کے لیے اہم تاریخ قرار دیا تھا، تاہم رکن ممالک کے درمیان اختلافات کے باعث یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا۔
یورپی یونین روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل نئی پابندیوں پر غور کر رہی ہے، تاہم ہر نئے پیکج کی منظوری کے لیے تمام رکن ممالک کا متفق ہونا ضروری ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات فیصلوں میں تاخیر پیش آتی ہے۔

