اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 5 جون کو طلب کیا گیا بجٹ اجلاس مؤخر کر دیا ہے، جبکہ نئی تاریخ کے تعین کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔ ذرائع کے مطابق بجٹ سے قبل حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے منگل کی شب وزارت خزانہ میں اہم مذاکرات ہوئے، تاہم دونوں فریق کسی حتمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ تجاویز، مالیاتی پالیسیوں اور بعض اہم قانون سازی کے معاملات پر پیپلز پارٹی نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ انہیں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے عمل میں مناسب طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس کی وجہ سے کئی اہم نکات پر اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت بجٹ پیش کرنے سے قبل چند اہم قانونی ترامیم اور مالیاتی اصلاحات کی منظوری چاہتی ہے، تاہم پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی بعض شقوں پر اعتراضات رکھتی ہے اور ان پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور آج متوقع ہے، جس میں بجٹ سے متعلق معاملات اور اتحادی جماعت کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ اجلاس کے التوا نے حکومتی اتحاد کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے، تاہم دونوں فریق معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا، تاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کو وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔
