Table of Contents
اسلام آباد: پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں پاکستانی فوجی کارروائیوں سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں کیے گئے دعوے کسی معتبر ثبوت پر مبنی نہیں اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کی بنیادی حقیقت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں عائد تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ہر فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کے تحت حقِ دفاع کے اصول کے مطابق کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر دہشت گرد گروہ طالبان انتظامیہ کے زیر انتظام افغانستان میں محفوظ ٹھکانے رکھتے ہیں، جہاں سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کی جاتی ہے۔
ترجمان کے مطابق افغان سرزمین سے منظم دہشت گرد کارروائیوں میں ہزاروں پاکستانی شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور لاجسٹک مراکز تک محدود رہی ہیں، جن میں احتیاط اور متناسب طاقت کے استعمال کے اصولوں کی مکمل پابندی کی گئی۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام کی اصل وجوہات کا نوٹس لے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرپرستی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دوحہ معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لے۔
حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت
ترجمان نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں یا پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی کے خلاف خطرہ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔
علاقائی سفارت کاری اور اسحاق ڈار کی ملاقاتیں
طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی کے حالیہ دورہ پاکستان اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی منیلا میں کویت، مصر، عمان اور روس کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں علاقائی استحکام، بحری سلامتی اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں بھی پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے، جبکہ آسیان ریجنل فورم میں پاکستان نے علاقائی امن، مکالمے اور تعاون کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
کینیڈا، جی ایس پی پلس اور افغانستان سے متعلق مؤقف
ترجمان نے کہا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا حالیہ دورہ گزشتہ دو دہائیوں میں اس نوعیت کا پہلا دورہ تھا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تعاون اور عوامی روابط پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان قانون سازی اور 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد سے متعلق مثبت پیش رفت کے اعتراف کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم رپورٹ میں پاکستان کی مجموعی کامیابیوں کی متوازن عکاسی نہیں کی گئی۔
افغان شہریوں سے متعلق انہوں نے بتایا کہ پاکستان اب تک 90 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو تیسرے ممالک منتقل ہونے میں سہولت فراہم کر چکا ہے، تاہم ملک میں قیام کے لیے قانونی دستاویزات لازمی ہیں اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
فلسطین اور کشمیر پر مؤقف
ترجمان نے فلسطینی عوام کی حمایت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ خطے میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا، جبکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کا معاملہ پاکستان کے خلاف بھارت کی تخریبی سرگرمیوں کا واضح ثبوت ہے۔

