ایران نے مبینہ طور پر عراق کی ثالثی کے ذریعے پیش کی گئی امریکا کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی عارضی معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتا جس میں آبنائے ہرمز کے مستقبل اور اس کی حیثیت سے متعلق بنیادی نکات شامل نہ ہوں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک ٹائمز نے ایرانی اور عراقی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ عراقی وزیرِاعظم علی الزیدی نے رواں ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد ایک امریکی تجویز کے ساتھ تہران کا دورہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایسے "عارضی معاہدے” پر آمادہ نہیں جس میں آبنائے ہرمز کی حتمی حیثیت اور دیگر بنیادی تنازعات کا واضح حل موجود نہ ہو۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا معاملہ موجودہ مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہے اور اسے نظر انداز کر کے کسی پیش رفت کا امکان نہیں۔
دوسری جانب عراقی وزیرِاعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ علی الزیدی نے تہران کا دورہ امن، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ عراق نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین کسی بھی صورت ایران کے خلاف فوجی کارروائی یا حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور مختلف علاقائی ممالک سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازع کے پرامن حل کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

