کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع زیارت میں دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور دہشتگردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق حملہ زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں کیا گیا، جہاں دہشتگردوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان گزشتہ رات سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔
ڈپٹی کمشنر زیارت نے تصدیق کی کہ حملے میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکاروں کی میتیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال زیارت منتقل کر دی گئی ہیں، جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق دہشتگردوں نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 9 اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ واقعے کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ داخلی اور خارجی راستوں پر بھی نگرانی سخت کر دی گئی ہے تاکہ دہشتگردوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
واقعے کے بعد صوبائی حکام نے دہشتگردی کے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور یقین دہانی کرائی کہ حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
