اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان ایک بار پھر سفارتی سطح پر متحرک ہوگیا۔ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی نے وزیراعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی، جس میں ایران کے صدر کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے دیرینہ برادرانہ تعلقات، دوطرفہ تعاون، علاقائی امن و استحکام اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے تجارت، اقتصادی تعاون، سرحدی روابط اور علاقائی شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط میں مزید وسعت کی گنجائش موجود ہے۔
ملاقات کے دوران سرحدی سلامتی، انسداد دہشت گردی، غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام اور دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے مختلف پہلوؤں پر بھی مشاورت کی گئی۔ دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون اور مسلسل رابطہ ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل اور سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے۔
اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایرانی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کو خوش آئند قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں علاقائی سلامتی، بارڈر مینجمنٹ اور دفاعی تعاون سے متعلق امور زیر غور آنے کا امکان ہے۔
پاکستان اور ایران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک باہمی خوشحالی، علاقائی استحکام اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔

