شامی حکام نے عراق کی سرحد کے قریب ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے لبنان جانے والی اسلحہ اور میزائلوں کی مبینہ اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ شامی وزارت داخلہ کے مطابق ضبط کیا گیا اسلحہ حزب اللہ کے لیے منتقل کیا جا رہا تھا، جبکہ وزارت نے تنظیم کو “دہشت گرد ملیشیا” قرار دیا ہے۔
شامی وزارت داخلہ کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب سرحدی علاقے میں مشکوک انداز میں کھڑی ایک گاڑی پر نظر رکھی گئی۔ تلاشی کے دوران گاڑی سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، اینٹی آرمر گائیڈڈ میزائل اور ڈرونز برآمد کیے گئے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اسلحہ کی یہ کھیپ شامی سرزمین کے ذریعے لبنان منتقل کی جا رہی تھی۔ حکام نے واضح کیا کہ سرحدوں کی حفاظت اور قومی خودمختاری کا دفاع ریاست کی اولین ترجیح ہے اور شام اپنی سرزمین کو اسلحہ اسمگلنگ یا خطے کے امن کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
شامی خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق ایک سکیورٹی ذریعے نے تصدیق کی کہ ضبط شدہ سامان میں جدید اور معیاری ہتھیار شامل تھے۔ دوسری جانب العربیہ/الحدث کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پکڑی گئی کھیپ میں تقریباً 150 خودکش ڈرونز، دھماکہ خیز گولے اور دیگر جدید اسلحہ بھی شامل تھا۔ ذرائع کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے اسلحہ کو شام میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔
عراقی سکیورٹی میڈیا سیل نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی شامی حکام کے ساتھ رابطے میں رہ کر تمام حقائق کا جائزہ لے گی اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کرے گی۔
بعد ازاں العربیہ کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اسلحہ کی اسمگلنگ 7 جولائی کو عراقی تیل بردار ٹینکر کے ذریعے کی گئی تھی۔ مزید بتایا گیا کہ عراقی انٹیلی جنس کے سربراہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم شام سے متصل الولید بارڈر کراسنگ پہنچ گئی ہے تاکہ مشترکہ تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
شامی حکام کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران اسلحہ اسمگلنگ کی متعدد کوششیں ناکام بنائی جا چکی ہیں۔ تازہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرحدی نگرانی اور ہتھیاروں کی نقل و حرکت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
تاہم اس معاملے پر حزب اللہ یا عراقی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

