نکاراگوا نے 1978 میں اٹلی کے سابق وزیراعظم الڈو مورو کے قتل کے مقدمے سے متعلق تنازع کے بعد اٹلی کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
نکاراگوا کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ یہ فیصلہ اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کے حالیہ بیانات کے بعد کیا گیا، جن میں انہوں نے نکاراگوا کی جانب سے سابق عسکریت پسند الیسیو کیسمیری کو شہریت دینے اور اسے تحفظ فراہم کرنے پر شدید تنقید کی تھی۔
اطالوی وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا تھا کہ الیسیو کیسمیری کو اٹلی کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ 1978 میں سابق وزیراعظم الڈو مورو کے قتل کے مقدمے میں سنائی گئی سزا کا سامنا کر سکے۔
الڈو مورو، جو اٹلی کے سابق وزیراعظم اور کرسچن ڈیموکریٹس جماعت کے رہنما تھے، کو مارچ 1978 میں انتہائی بائیں بازو کی تنظیم ریڈ بریگیڈز نے اغوا کر لیا تھا۔ تنظیم نے ان کی رہائی کے بدلے اپنے قید ارکان کی آزادی کا مطالبہ کیا، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کے بعد تقریباً دو ماہ بعد الڈو مورو کی لاش ایک کار کے ڈِگی سے برآمد ہوئی تھی۔
اطالوی وزارت خارجہ نے نکاراگوا کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایک بار پھر الیسیو کیسمیری کی حوالگی کا مطالبہ دہرایا۔
وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ “کسی سزا یافتہ مجرم کو استثنیٰ دینا ناقابل قبول ہے، اور ہم نکاراگوا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے اٹلی کے حوالے کیا جائے۔”
نکاراگوا کی جانب سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جبکہ یہ معاملہ کئی دہائیوں پرانے دہشت گردی کے مقدمے کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔

