ایران میں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے 12 پاکستانی نوجوانوں کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں دو نوجوان بحفاظت تہران میں پاکستانی سفارتخانے پہنچ گئے ہیں۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق بحفاظت پہنچنے والے نوجوانوں کی شناخت طلحہ اور شہزاد کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق لاہور کے علاقے گاؤں پسین سے ہے۔ دونوں نوجوان اس وقت پاکستانی سفارتخانے کی تحویل میں ہیں، جبکہ ان کی واپسی کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی درخواستوں پر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور انسانی اسمگلروں کی گرفتاری کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق لاپتہ ہونے والے 12 نوجوانوں میں سے 7 کا تعلق لاہور سے ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انسانی اسمگلروں نے نوجوانوں کو بلوچستان کے راستے غیرقانونی طور پر ایران منتقل کیا۔ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ وہاں سے ترکیہ کے ذریعے اٹلی پہنچایا جائے گا۔
ایف آئی اے کے مطابق اسمگلروں نے ابتدائی طور پر متاثرہ افراد سے چند ہزار امریکی ڈالر وصول کیے اور وعدہ کیا کہ باقی رقم یورپ پہنچنے کے بعد وصول کی جائے گی۔ تاہم ایران پہنچنے کے بعد نوجوانوں کو مبینہ طور پر ایک نامعلوم مقام پر یرغمال بنا لیا گیا اور ان کے اہل خانہ سے فی کس 6 ہزار امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ باقی لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار ہے، جبکہ پاکستان میں انسانی اسمگلروں کے مختلف ٹھکانوں پر چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیرقانونی طریقے سے یورپ بھجوانے کے نام پر شہریوں کو بیرون ملک یرغمال بنا کر اہل خانہ سے بھاری رقوم وصول کرنے کے واقعات میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیرقانونی امیگریشن کے جھانسے میں آنے سے گریز کریں اور صرف قانونی ذرائع سے بیرون ملک سفر اختیار کریں۔

