واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ طور پر مزید وسیع فوجی کارروائی پر غور شروع کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایران کے اندر نئے اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کے مختلف عسکری آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق زیر غور فوجی منصوبہ حالیہ دنوں آبنائے ہرمز کے اطراف کیے گئے امریکی حملوں سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔ عسکری حکام نے صدر ٹرمپ کو ایسے اہداف پر حملوں کی تجاویز پیش کیں جنہیں امریکا نے اب تک نشانہ نہیں بنایا۔
اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، وزیر خارجہ مارکو روبیو، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں عندیہ دیا تھا کہ اگر سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا آئندہ ہفتے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ توانائی سے متعلق اہداف کو فی الحال محفوظ رکھا گیا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف کارروائی بھی خارج از امکان نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الحال کسی حتمی فوجی فیصلے کی منظوری نہیں دی گئی، تاہم اگر آنے والے دنوں میں تہران کے ساتھ مذاکرات یا سفارتی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہوئی تو صدر ٹرمپ فوجی آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور امریکا و ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

