امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن تہران کو کسی بھی قسم کی مالی معاونت فراہم نہیں کرے گا، اور امریکہ 60 روزہ عبوری معاہدے پر مکمل طور پر قائم رہے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط مایوسی کے باعث کیے ہیں، تاہم امریکہ اپنے طے شدہ 60 روزہ فریم ورک سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق “ایران کو ایک ڈالر، حتیٰ کہ دس سینٹ بھی نہیں دیے جائیں گے”۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ مذاکرات ملتوی ہو گئے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بالخصوص لبنان کے محاذ پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تہران کی جانب سے بھی سخت موقف اختیار کیا گیا ہے، اور ایران نے مذاکرات میں اپنی "سرخ لکیروں” پر عمل درآمد کی شرط رکھی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی حتمی پیش رفت کا انحصار واشنگٹن کے رویے اور معاہدے کی شقوں پر عملدرآمد پر ہوگا۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا بحران بدستور برقرار ہے، اور 60 روزہ عبوری دور میں پیش رفت کے امکانات غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔
