سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری براہ راست مذاکرات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت اور دھمکی آمیز مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو وہ اسے “تباہ” کر سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی فریق نے معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو “میں ایران کو تباہ کر دوں گا”۔ ان کے مطابق اگر صورتحال نے مزید شدت اختیار کی تو امریکا آبنائے ہرمز پر کنٹرول بھی حاصل کر سکتا ہے، جو عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔
فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو متنبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے اور ایسی صورتحال میں مذاکراتی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو فوری طور پر خطے میں اپنے اتحادی عناصر کو روکنا ہوگا، ورنہ کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ “ٹروتھ سوشل” پر بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو لبنان سمیت خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے استعمال سے باز رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر ایران نے اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت جاری رکھی تو امریکا سخت اقدامات پر مجبور ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران نے “کھیل کے اصول” تسلیم نہ کیے تو صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے جوہری افزودگی کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں احتیاط سے کام لینا ہوگا۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کے قریبی ذرائع کے مطابق واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھانے اور مذاکرات میں اپنی شرائط منوانے کے لیے سخت بیانات کو حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جبکہ برگن اسٹاک میں جاری مذاکرات کا مقصد جوہری پروگرام اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فریم ورک تیار کرنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی اور سفارتی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان و قطر اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سفارتی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات مذاکراتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، تاہم دونوں فریقین کی موجودگی میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہنے کو ایک اہم پیش رفت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
