بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو ان کے خلاف جنسی بدتمیزی اور نامناسب رویے کے الزامات سے متعلق جاری تادیبی کارروائی کے دوران معطل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کے مستقبل کا فیصلہ عدالت کے رکن ممالک کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی گورننگ باڈی نے پیر کی شام اس فیصلے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب عدالت کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اکثریتی ووٹ کے ذریعے معاملہ آئی سی سی کے رکن ممالک کے خصوصی اجلاس کو بھیجنے کی منظوری دی تاکہ کریم خان کے عہدے کے مستقبل پر غور کیا جا سکے۔
عدالت کے 21 رکن ممالک پر مشتمل کمیٹی نے اس بات کا جائزہ لینے کے حق میں ووٹ دیا کہ آیا کریم خان نے اپنے خلاف سامنے آنے والے جنسی بدتمیزی کے دعوؤں کے تناظر میں سنگین پیشہ ورانہ بدسلوکی کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں۔
الزامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2023 اور 2024 کے درمیان مختلف مواقع پر نامناسب اور غیر رضامندانہ رویے اختیار کیے گئے۔ شکایت کنندہ کے مطابق مبینہ واقعات بعض سرکاری دوروں کے دوران ہوٹلوں، پراسیکیوٹر کے دفتر اور نجی رہائش گاہوں پر پیش آئے۔
برطانوی وکیل کریم خان نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کو مسلسل مسترد کیا ہے۔ یہ الزامات پہلی مرتبہ 2024 میں منظر عام پر آئے تھے اور ان کے باعث عدالت کے پراسیکیوشن ڈویژن کی سرگرمیوں اور ساکھ پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ شکایت ایک خاتون ملازمہ کی جانب سے سامنے آئی تھی جو دی ہیگ میں قائم آئی سی سی ہیڈکوارٹر میں ان کے ساتھ کام کرتی تھی۔
دوسری جانب کریم خان کے قانونی نمائندوں نے تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی فرد کو ہراساں نہیں کیا، نہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور نہ ہی کسی ایسے عمل میں ملوث ہوئے جسے زبردستی، استحصالی یا غیر پیشہ ورانہ قرار دیا جا سکے۔
آئی سی سی کی گورننگ باڈی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ معطلی کا فیصلہ کسی حتمی نتیجے یا جرم کے تعین کے مترادف نہیں ہے بلکہ یہ ایک انتظامی اقدام ہے تاکہ تحقیقات اور تادیبی عمل شفاف انداز میں آگے بڑھ سکے۔
عدالت کی ایگزیکٹو کمیٹی کے مطابق یہ فیصلہ اقوام متحدہ سے وابستہ نگرانی کے ادارے کی رپورٹ، عدالتی ماہرین کے پینل کی سفارشات اور فریقین کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریری دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تاریخ کے اہم ترین داخلی بحرانوں میں سے ایک بن چکا ہے، اور اگر رکن ممالک نے کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تو مستقبل میں کریم خان کو عہدے سے ہٹانے کے لیے باقاعدہ ووٹنگ بھی ہو سکتی ہے۔
